
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «rt» کے مطابق عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی ٹیچر کا حجاب کرنا تعلیمی اصولوں کے خلاف ورزی نہیں اور اسکول میں حجاب کی وجہ سے کام پر خاتون کو جاب نہ دینا درست نہیں ، اس حوالے سے عدالت کی جانب سے اسکول کو نو ہزار دوسوپچاس ڈالر جرمانہ کیا گیا ہے.
عدالت کے جج «ریناٹ شووڈ» کے مطابق اسکول انتظامیہ نے خاتون ٹیچر سے کہا تھا کہ تدریس کے وقت حجاب کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے.
گذشتہ سال اس خاتون کی درخواست رد کردی گیی تھی مگر «ریناٹ شووڈ» نے اس حکم کو جرمن میں مذاہب کی آزادی کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے خاتون کے حق میں فیصلہ صادر کردیا ہے.
سال ۲۰۰۳ مین جرمن کے سولہ ریاستوں میں سے چھ نے اسکول میں حجاب پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا
سال ۲۰۰۴ میں اس بہانے حجاب کی مخالفت کا فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسکارف کی وجہ سے نظم و ضبط میں خلل پڑسکتا ہے!
سال ۲۰۱۴ میں جرمنی کی اعلی عدالت نے اسکارف پر پابندی کو مذاہب کی آزادی کی خلاف ورزی اور مسلمانوں اور عربوں کے خلاف تعصب کو نادرست قرار دیا تھا ۔