
ایکنا نیوز- روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق جان کلی نے مونیخ سیکورٹی اجلاس سے خطاب میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ
ہم اس وقت سیکورٹی پر سخت توجہ دیں رہے ہیں اور میں واضح کرونگا کہ مسلمانوں کے داخلے کے عمل کو مزید سخت کیا جائے گا
سیکورٹی اجلس سے جرمن چانسلرآنجلا مرکل نے کہا : اسلام اور دہشت گردی کا کوئی تعلق نہیں اور دہشت گردی ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کا تعاون ضروری ہے۔
مرکل ڈونالڈٹرمپ کے مسلم مخالف حکم کی مخالفوں میں شمار ہوتا ہے
امریکی صدر کے مشیر مایک پنس نے مرکل کی گفتگو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھنا چاہیے کہ یہ کانفرنس دہشت گردی سے مقابلے کے لیے کیا راہ حل تجویز کرتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے دہشت گردی سے مقابلے کے نام پر سات اسلامی ممالک کے باشندوں پر امریکہ میں داخلے کو روکنے کا حکم جاری کیا ہے اور تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس میں سعودی عرب جیسے ممالک کا نام شامل نہیں جو سلفی شدت پسندانہ افکار کو مرکز سمجھا جاتا ہے۔