
ایکنا نیوز- ترک نیوز ایجنسی آناتولی کے مطابق ترکی کی ایک سیاسی ، اجتماعی اور فلاحی تنظم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترکی نے " یورپ میں اسلامو فوبیا" پر رپورٹ تیار کی ہے جس کا جایزہ لینے کے لیے سیمینار منعقد کیا گیا۔
ترک وزیرعمر چلیک نے سیمینار سے خطاب میں کہا : یورپی یونین کی اعلی عدالت کے اس حکم کے بعد جسمیں کہا گیا ہے کہ یورپ میں اداروں کے سربراہ اپنے اسٹاف کو حجاب سے روک سکتے ہیں قانونی طور پر اسلاموفوبیا کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے مذہبی تعصب اور تفریق کا راستہ کھل جائے گا اور مسلمان خواتین برراہ راست اس حکم کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
عمر چلیک نے اس معاملے کو خطرناک قرار دیتے ہوئے مہاجرین کی بڑی تعداد اور دہشت گردانہ واقعات کو اس میں اہم عامل قرار دیا۔
فرانس اور بلیجیم کی دوخواتین کی درخواست پر کہ انہیں حجاب کی وجہ سے کام سے فارغ کیا گیا ہے یورپی عدالت نے اس اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کے سربراہ اس کام کے لیے اسٹاف کو مجبور کرسکتے ہیں۔