ایکنا نیوز- ڈیلی پاکستان کے مطابق بتایا گیا ہے کہ ہندوئوں نے الزام لگایا کہ سوشل میڈیا پر انکے دیوی دیوتا رام اور سینا کے بارے میں ایک مسلمان آصف علی نے قابل اعتراض تبصرہ کیا‘ بہانہ ملتے ہی سینکڑوں ہندو فسادی سڑکوں پر نکل آئے اور تھانے کے سامنے دھرنا دیدیا اسکے بعد توڑپھوڑ گھیرائو جلائو اور لوٹ مار کا سلسلہ شروع ہو گیا۔کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سکول کالجوں کو بند ر دیا گیا۔ بھدرک کے ایس پی دلیپ کمار داس نے بتایا کہ پولیس نے 35 فسادیوں کو گرفتار کیا ہے اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے پولیس اور سی آر پی ایف 505 کمپنیاں علاقے میں پہنچ گئی۔
شہر میں جگہ جگہ مارپیٹ اور املاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات جاری رہے ہیں۔ مسلمانوں کے بہت سے مکانوں اور دکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ بی بیسی کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی ریاستی دارالحکومت بھونیشور میں 15 اور 16 اپریل کو کانفرنس ہونے والی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی اجلاس میں 2019ء کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی جیتکا خاکہ تیار کیا جائے گا۔ اور اسی ضمن میں بعض لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھدرک کا واقعہ ریاست میں فرقہ وارانہ درجہ حرارت کو بڑھا سکتا ہے۔ یہ بات بی جے پی کی انتخابی مہم کے حق میں جائے گی۔