
ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق سراج الحق کا کہنا تھا مغرب میں بنایا جانے والا اسلحہ اور بارود مسلمانوں پر آزمایاجارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے صدام حسین کو تباہی پھیلانے والا اسلحہ رکھنے کا الزام دینے کے بعد عراق کو کھنڈر بنا دیا ہے اور ہزاروں عراقی مسلمانوں کو مار دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ امریکا اور نیٹو نے اسی طرح افغانستان پر حملہ کیا اور ہزاروں افغانیوں کو مار دیا۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ سامراجی طاقتیں اسی کہانی کو کشمیر، برما، فلسطین اور شام میں دہرا رہی ہیں 'لیکن بدقسمتی سے مسلم حکمرانوں کا رویہ قابل مذمت ہے'۔
انھوں حکمرانوں پر ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم حکمرانوں کا فرض تھا کہ وہ مل بیٹھ کر دشمنوں کی جانب سے کھینچی گئی لکیر کا پردہ چاک کرتے اور ہر مسلمان کا تحفظ کرتے۔
انھوں نے کہا کہ برما کے علاقے اراکان میں مسلمانوں کے گھروں اور مسجدوں کو جلایا گیا اور اراکان میں روزانہ سیکڑوں روہنگیا مسلمانوں کو مارا جارہا ہے لیکن اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں۔
کشمیر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انڈیا گزشتہ 70 برسوں سے خاموشی سے ظلم کرنے میں مصروف ہے جبکہ فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی جاری ہے لیکن اقوام متحدہ، کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے کوئی دلچسپی نہیں لے رہا ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ اس صورت حال میں اسلامک یونائیٹڈ نیشنز کی بنیاد رکھنا ہی واحد علاج ہے