پاکستانی قرآنی مقابلہ جج' مقابلوں میں سلیکشن کے لیے تجدید نظر کی ضرورت

IQNA

پاکستانی قرآنی مقابلہ جج' مقابلوں میں سلیکشن کے لیے تجدید نظر کی ضرورت

6:32 - April 25, 2017
خبر کا کوڈ: 3502872
بین الاقوامی گروپ:چونتیسویں قرآنی مقابلوں کے جج احمد میاں تھانوی نے بعض عربی،افریقن اور وسطی ایشیائی ممالک کے قاریوں کی صلاحتیوں کو قابل تعریف قرار دیا

پاکستانی قرآنی مقابلہ جج'مقابلوں میں سلیکشن کے لیے تجدید نظر کی ضرورت


ایکنا نیوز سے گفتگو کرتے ہویے «حسن حفظ» اور «تجوید» کے شعبے میں جج کے فرائض انجام دینے والے احمد میاں تهانوی

نے کہا : حفظ کے شعبے میں بعض بہت اچھے ہیں البتہ بعض بہت کمزور، اسی لیے ضرورت ہے کہ اس حوالے سے سلیکشن کے لیے اچھا معیار اور اصول متعین کیے جایے تاکہ مقابلے مزید بہتر ہوسکے اور آنے والے حفاظ کرام اپنے ممالک کے نام روشن کرسکیں۔

چونتیسویں قرآنی مقابلوں کے جج احمد میاں تھانوی نے بعض عربی،افریقن اور وسطی ایشیایی ممالک جیسے الجزایر،مراکش وغیرہ کے نمایندوں کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: بعض دیگر ممالک جسیے ازبکستان،روس اور تاجیکستان کے نمایندے کافی کمزور تھے لہذا اس حوالے سے سلیکشن کے وقت دقت نظر کی ضرورت ہے.


سعودی عرب ، امارات اور فلسطین کے «الاقصی» مقابلوں میں ججز کے فرایض انجام دینے والے پاکستانے جج نے ایرانی قرآنی مقابلوں میں ججز کے لیے نظم وضبط اور تقسیم بندی کو اچھا فیصلہ قرار دیا۔

انہوں نے مقابلوں میں نابیناوں کے مقابلوں کو بھی خوش آیند قرار دیتے ہوئے اس سلسلے کو جاری رکھنے پر زور دیا۔

احمد میان تهانوی نے ایک سوال کے جواب میں موجود بحرانی صورتحال میں امت کے درمیان قرآن کو وحدت کا محور قرار بتاتے ہوئے ان مقابلوں کو اتحاد اسلامی میں انتہائی مفید قرار دیا ۔

3592958

نظرات بینندگان
captcha