
ایکنا نیوز- روسی میگزین کے مطابق روس میں گریٹ پیٹر(ایمپایر) اور ایکاَٹرینا( پیٹر کی بیوی) کی کوششوں سے لائے گیے قرآنی نسخوں کو ساتویں صدی سے متعلق بتایا جاتا ہے
عثمانی قرآن
میڈل ایسٹ کے مسلمانوں میں اہم ترین قرآن شمار ہونے والا عثمانی خطی نسخہ سنٹ پیٹرزبرگ کے میوزیم میں رکھا گیا ہے
اور چند سال پہلے عثمانی قرآنی خط کے چند نسخے ازبکستان اور افغانستان سے دریافت ہوئے تھے
کوفی خطی قرآن

روس کے میوزیم میں خط کوفی کے بعض نادر حصے موجود ہیں جنمیں سے ایک نیشنل میوزیم میں رکھا گیا ہے
ان نسخوں کے بعض حصے قاہرہ کی مسجد «عمرو بن عاص» سے ملے تھے ۔ خط کوفی کو دنیا کے نادر خطوں میں شمار کیا جاتا ہے اس خط کے چند نادر نسخے فرانس میں بھی موجود ہیں ۔
تاتاری قرآنی نسخے

ماسکو میں اس خطی نسخے کے چند نمونے موجود ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اہم تقریبات میں حلف برداری کے لیے ان نسخوں کو لایا جاتا ہے اور سورہ نحل کی جس آیت کو حلف کے وقت تلاوت کی جاتی ہے وہ سونے کے پانی سے لکھا گیا ہے
میناچرقرآنی نسخے

آٹھ کونوں والا میناچر قرآنی نسخوں کے تین خوبصورت کاپیاں روسی اکیڈمی میں موجود ہیں
فابرژه قرآنی نسخہ

معروف جیولر کارل فابرژه کے نام سے نسخہ یہاں رکھا گیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس نسخے کو پرنسس فرانسوا سے سسیل مورات نے خریدا تھا۔
روسی انقلاب کے بعد اس کو فروخت کے لیے پیش کیا گیا اور اس وقت اسکا نسخہ سنٹ پیٹرز برگ میں بھی موجود ہے۔