
ایکنا نیوز- اطلاع رساں ادارے «سن اسٹار» کے مطابق داعش اور ان جیسی تکفیری تنظیموں سے اظھار بیزاری کے لیے تین سو علما کی شرکت کے ساتھ تین روزہ اجلاس جزیره «میندانائو» میں منعقد کیا گیا
اجلاس میں علما نے متفقہ طور پر داعش کو اسلام سے لاتعلق قرار دیتے ہوئے انکی کارروائیوں کو اسلامی تعلیمات کی برعکس قرار دیا ۔
اس سے پہلے داعش نے دھمکی دی تھی کی اجلاس میں شرکت کرنے والے علما کو نشانہ بنایا جائے گا۔
داعش کے بیان میں کہا گیا تھا : علما کے خاندان ان کو اجلاس میں شرکت سے روک دیں ورنہ اجلاس میں جاتے یا آتے ہوئے ان پر حملہ ہوا تو وہ خود ذمہ دار ہوں گے۔
فلپاینی جنرل «کارلیٹو گالوز جونیور» نے اس اجلاس کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔
جنوب مشرقی ایشیاء کے ملک فلپاین میں عیسائی مذہب کے بعد اسلام دوسرا بڑا مذہب شمار کیا جاتا ہے ۔