ایکنا نیوز- شفقنا-ایک مقامی ویب سائیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ عرب حالیہ کانفرنس اور اس سے قبل اسرائیل کے ساتھ تعاون بڑھانے بالخصوص سعودی شہزادے کے اس بیان نے کہ ’’ایران اسرائیل جنگ میں ہم اسرائیل کا ساتھ دیں گے‘‘ کو سعودی عوام نے انتہائی ناپسند کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان ملکوں میں ایک بھی ایسا ملک نہیں ہے کہ جہاں کے عوام امریکہ و اسرائیل کو اپنا دوست یا مخلص سمجھتے ہوں۔ چنانچہ جس ملک کا حکمران بھی امریکی گود میں بیٹھتا ہے، سب سے زیادہ اسے اپنے ہی ملک کے عوام تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہی حال آل سعود کا ہے۔
ڈاکٹر ابوبکر عثمانی نے مزید کہا کہ اپنی تنہائی دور کرنے کیلئے بظاہر سعودی حکمرانوں نے اکتالیس ملکوں کو اکٹھا کیا، جس میں نصف سے زائد سعودی امداد سے چلتے ہیں۔ جو چند اہم ملک اس میں شامل ہوئے بھی تو وہ بھی اس بات سے ناخوش ہیں کہ سعودی عرب نے ہمیں پلیٹ میں سجا کر امریکی خواہشات کی بھینٹ چڑھا رہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر ابوبکر نے کہا کہ ایران کے سپریم کمانڈر نے جو یہ کہا ہے کہ سعودی عرب امریکہ کیلئے دودھ دینے والی گائے ہے۔ اس سے اختلاف کسی کیلئے ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب جنرل راحیل نے وہاں جانے کے باوجود یمن جنگ میں کوئی بھی کردار ادا کرنے سے معذرت کی۔ دوسری جانب کانفرنس میں مصر نے بھی ان کی تقرری پہ اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ پھر کانفرنس میں ان کی ڈیوٹی سکیورٹی انچارج کی لگائی گئی۔ تو یہ ساری چیزیں ملکر پاکستانیوں، جنرل راحیل شریف، حکومت پاکستان کیلئے تکلیف دہ ثابت ہوئیں اور پاکستان نے ایران کے حوالے سے جو سٹینڈ لیا، پاکستان آج بھی اسی پر قائم ہے، جبکہ یہ بات سعودی عرب اور امریکہ دونوں کو قابل قبول نہیں۔ پاکستان، چین معاشی پارٹنر ہیں اور مفادات مشترک ہیں اس لئےامریکہ اس اتحاد کے ذریعے چین کو کاؤنٹر کر رہا ہے، جبکہ اس خطے میں جس طرح پاکستان چین کا اتحادی ہے ، اسی طرح بھارت امریکہ کا اتحادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عرب امریکہ کانفرنس میں امریکی صدر نے بھارت کا خصوصی نام لیکر اسے دہشتگردی کا شکار ملک ڈکلیئر کیا اور ساتھ ہی کثیر الملکی اتحاد کا ہدف دہشت گردی قرار دیا۔ چنانچہ بالواسطہ طور پر اس اتحاد کا ہدف ان قوتوں کو قرار دیا کہ جنہیں امریکہ یا بھارت دہشت گرد گردانتے ہیں۔ ایک جانب امریکی صدر نے بھارت کے حق میں بیان دیا، دوسری جانب اپنے اہم آلہ کار ڈکٹیٹر صدر سیسی کے ذریعے جنرل راحیل کی کمانڈ پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ کچھ بعید نہیں کہ بھارت بھی اس کثیر الملکی اتحاد کا حصہ بنے، مگر اس وقت جب پاکستانی جنرل اسے خیر باد کہہ دے۔
ڈاکٹر ابوبکر عثمانی نے مزید کہا کہ تنہائی کا شکار ایران یا ایرانی قیادت نہیں بلکہ سعودی عرب اور آل سعود ہیں۔ ایران نے روس کے ساتھ طویل المدت شراکت داری کے معاہدے کرکے قبل ازوقت اس خطرے سے خود کو محفوظ کر لیا ہے۔ دوسری جانب یورپ میں بھی اب امریکہ کے خلاف اور روس کے حق میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ ادھر چین بھی پاکستان کے بعد اگر کسی ملک کو سب سے زیادہ اہمیت دے رہا ہے تو وہ ایران ہے۔ دوسری جانب اس کثیر الملکی اتحاد میں شامل بعض ممالک بھی اس کانفرنس کے بعد ایران کے حق میں بات کر رہے ہیں اور آل سعود کی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ قطر کی جانب سے بھی سعودی اقدامات و خواہشات پر تنقید کی جا رہی ہے۔ سعودی عرب اپنے بنائے ہوئے اتحاد میں بھی اپنی تنہائی دور نہیں کر پا رہا، وہ ایران کو کیا تنہا کرے گا۔