ایکنا نیوز- شفقنا- اس علاقے میں پہلے بھی حملے ہو چکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ حملہ آور اس اہم ترین، حساس اور انتہائی الرٹ سکیورٹی والے علاقے تک پہنچ کیسے جاتے ہیں، ایک اتنا بڑا ٹینکر ٹرک کیسے وہاں تک پہنچ گیا؟
اس حملے سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ 16 سالہ جنگ، ہزاروں ہلاکتوں اور اربوں ڈالر جھونکنے کے بعد کچھ بھی نہیں بدلا۔ خود سفارت کاروں کو مضبوط اور اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے چُھپنا پڑ رہا ہے اور پھر بھی وہ وہاں محفوظ نہیں ہیں۔
افغانستان کے اپنے ہمسائے پاکستان سے تعلقات خراب ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ پاکستان افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت چاہتا ہے تاکہ اس خطے میں بھارت کے کردار کو ختم کیا جا سکے۔ اور یہی نقطہ افغانستان میں خانہ جنگی کا باعث بنا ہوا ہے۔افغان قیادت تمام خودکش حملوں کی ذمہ دار پاکستانی ریاست کو ٹھہراتی ہے۔
اسی طرح افغانستان کے دو دیگر علاقائی طاقتوں ایران اور روس کے ساتھ تعلقات بھی تناؤ کا شکار ہیں اور ان کی مدد کے بغیر بھی افغانستان میں پائیدار امن کا حصول ناممکن ہے۔ دوسری جانب افغانستان روس اور امریکا کے لیے ایک نیا میدان جنگ بنتا جا رہا ہے لیکن اس مرتبہ کردار بدل گئے ہیں۔ اب روس طالبان کی قُربت چاہتا ہے جبکہ امریکا کابل حکومت کی مدد کر رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے سے امریکی ڈرون حملوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں کے مقابلے میں طالبان کے خلاف سب سے زیادہ ڈرون حملے کیے جا رہے ہیں۔ اپریل میں ہندوکش میں مارچ کے مقابلے میں دو گنا زیادہ بم پھینکے گئے۔
اگرچہ طالبان نے اس حملے سے انکار کیا ہے مگر پھر بھی مغربی میڈیا طالبان کو ہی ان حملوںکو ذمہ وار ٹھہرا رہا ہے جب کہ دوسری جانب داعش کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کو طالبان کے روس اور ایران کے ساتھ تعلقات کسی طور قبول نہیں اور وہ طالبان کے مقابلے میں افغانستان میں داعش کو مضبوط کر رہا ہے۔
حالیہ دھماکہ ظاہر کرتا ہے کہ داعش افغانستان میں کس قدر مضبوط ہو گئی ہے اور مستقبل قریب میں امریکہ اس خطے میں ایک اور پراکسی جنگ کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لیے داعش ایک مضبوط کٹھ پتلی ثابت ہو سکتی ہے۔