
ایکنا نیوز- فرنچ نیوز کے مطابق نماز کا وقت ہوجاتا ہے مگر بارسلونا کی مسجد کے امام «راجا میاں» کو توقع نہیں کہ زیادہ لوگ نماز کے لیے جمع ہوں گے
وہ مسجد کے چھوٹے سے کمرے میں چند کم عمر بچوں کو قرآن کا درس دیتے ہوئے کہتا ہے : مسلمان بہت خوفزدہ ہوگیے ہیں
راجا کا کہنا تھا: لوگ گھروں سے بہت کم نکلتے ہیں نماز کے لیے تو بہت کم ۔
اسپین کے لوگ اب تک مسلم فوبیا سے زیادہ خوفزدہ نہیں تھے مگر اس واقعے نے سب کچھ بدل دیا۔
اسپین کے بیس لاکھ مسلمان توقع کرتے ہیں کہ انکو دہشت گردوں کے نظر سے نہیں دیکھا جائے گا۔
گذشتہ روز سینکڑوں مسلمانوں نے مظاہرہ کیا اور بارسلونا حملے کی مذمت کرتے ہوئے تکفیری دہشت گردوں سے بیزاری کا اظھار کیا
قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو دہشت گردانہ واقعے میں ایک سوچودہ لوگ ہلاک اور زخمی ہوگیے تھے۔
واقعے کی ذمہ داری وہابی دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔