
ایکنا نیوز- اٹھارہ ذی الحج کو تاریخ کا وہ عظیم ترین دن ہے جسمیں رسول اکرم بحکم خدا حضرت علی کو غدیر خم کے مقام پر جانشین بنانے کا اعلان فرماتے ہیں ، اس حوالے سے تاریخ میں اسکا واقعہ مختصر طور پر پیش خدمت ہے
حجۃ الوداع
رسول خدا(ص) ہجرت کے دسویں سال، 24 یا 25 ذیقعدہ کو ایک لاکھ بیس ہزار افراد کے ساتھ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔رسول اللہ(ص) کا یہ حج حجۃ الوداع، حجۃ الاسلام اور حجۃ البلاغ کہلاتا ہے۔
اس وقت امام علی(ع) تبلیغ کے لئے یمن گئے ہوئے تھے، جب آپ(ع) کو رسول خدا(ص) کے حج پر جانے خبر ملی تو یمنی مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور اعمال حج کے آغاز سے قبل ہی رسول اللہ(ص) سے جا ملے۔ حج کے اختتام پر رسول خدا(ص) مسلمانوں کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی جانب روانہ ہوئے۔
آیت تبلیغ
اصل مضمون: آیت تبلیغ
فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد مسلمانوں کا یہ عظیم الشان اجتماع بروز جمعرات 18 ذی الحجہ کو پیغمبر اکرم(ص) کی معیت میں غدیر خم کے مقام پر پہنچے۔ جہاں سے شام، مصر اور عراق وغیرہ سے آنے والے حجاج اس عظیم کاروان سے جدا ہو کر اپنے اپنے مقرره راستوں سے اپنے ملکوں کی طرف جانا تھا اتنے میں جبرائیل آیت تبلیغ لے کر نازل ہوئے اور رسول خدا(ص) کو اللہ کا یہ حکم پہنچا دیا کہ علی(ع) کو اپنے بعد ولی اور وصی کے طور پر متعارف کرائیں۔
آیت نازل ہونے کے بعد رسول اللہ(ص) نے کاروان کو رکنے کا حکم دیا اور آگے نکل جانے والوں کو واپس پلٹنے اور پیچھے رہ جانے والوں کو جلدی جلدی غدیر خم کے مقام پر آپ(ص) تک پہنچنے کا حکم دیا۔
رسول خدا(ص) کا خطبہ
اصل مضمون: خطبۂ غدیر
حدیث ولایت
رسول اللہ(ص) نے فرمایا:
أَلَستُ أَولٰى بِالمُؤمِنِينَ مِن أَنفُسِهِم؟ قالوا بَلٰى، قال: مَن کُنتُ مَولاهُ فَهذا عَلٰى مَولاهُ، اللّٰهُمَّ والِ مَن والاهُ وَعادِ مَن عاداهُ وَانصُر مَن نَصَرَهُ وَاخذُل مَن خَذَلَهُ
ترجمہ: کیا میں مؤمنین پر حقِ تصرف رکھنے میں ان پر مقدم نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں! چنانچہ آپ(ص) نے فرمایا: میں جس کا مولا و سرپرست ہوں یہ علی اس کے مولا اور سرپرست ہیں؛ یا اللہ! تو اس کے دوست اور اس کو اپنا مولا اور سرپرست سمجھنے والے کو دوست رکھ اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ؛ جو اس کی نصرت کرے اس کی مدد کر اور جو اس کو تنہا چھوڑے اس کو اپنے حال پر چھوڑ کر تنہا کردے۔
ابن مغازلی شافعی، المناقب ص 24۔
نماز ظہر ادا کرنے کے بعد رسول خدا(ص) نے خطبہ دیا جو خطبۂ غدیر کے نام سے مشہور ہوا اور اس کے ضمن میں فرمایا:
"حمد و ثنا صرف اللہ کے لئے ہے۔ اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی پر ایمان رکھتے ہیں۔ اپنے نفس کی شرانگیزیوں اور اپنے کردار کی برائیوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں... خداوند لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ مجھے بہت جلد اس کے پاس سے بلایا آئے گا اور میں اس کے بلاوے پر لبیک کہوں گا... میں تم سے پہلے حوض کوثر کے کنارے حاضر ہونگا اور تم اسی حوض کے کنارے میرے پاس لائے جاؤگے، پس دیکھو کہ میرے بعد ثقلین کے ساتھ کیا سلوک روا رکھتے ہو؛ ثقل اکبر کتاب اللہ ہے ... اور میری عترت، ثقل اصغر ہے..."۔
اس کے بعد رسول خدا(ص) نے حضرت علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر اٹھا لیا یہاں تک کہ سب نے آپ(ع) کو رسول الله (ص) کے پہلو میں دیکھ لیا اور اس کے بعد آپ (ص) نے فرمایا:
"اے لوگو! کیا میں تمہاری نسبت تم پر مقدم نہیں ہوں؟"، لوگوں نے جواب دیا: "کیوں نہیں اے رسول خدا(ص)"؛ رسول الله (ص) نے فرمایا: "خداوند متعال میرا ولی ہے اور میں مؤمنین کا ولی ہوں، پس جس جس کا میں مولا ہوں علی(ع) بھی اس کے مولا ہیں"۔ رسول خدا(ص) نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا اور فرمایا: "اے اللہ! تو اس شخص کو دوست رکھ اور اس کی سرپستی فرما جو علی کو دوست رکھتا ہے اور اسے اپنا مولا اور سرپرست مانتا ہے اور ہر اس شخص سے دشمنی کر جو علی(ع) کا دشمن ہے۔ اس کی مدد اور نصرت فرما جو علی(ع) کی مدد اور نصرت کرتا ہے اس شخص کو اپنی حالت پر چھوڑ دے حو علی(ع) کو تنہا چھوڑتا ہے"۔ بعد از آں لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایا: " حاضرین اس پیغام کو غائبین تک پہنچا دیں"۔
آیت اکمال کا نزول
اصل مضمون: آیت اکمال
ابھی اجتماع منتشر نہیں ہوا تھا کہ جبرائیل دوبارہ نازل ہوئے اور خدا کی طرف سے رسول خدا(ص) پر آیت اکمال نازل کردی؛ جس میں ارشاد ہوا:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً
ترجمہ: آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کر لیا۔
تصویر بیعت کردن مسلمانان با حضرت علی(ع) در واقعه غدیر خم در کتاب حبیب السیر که توسط غیاثالدین خواندمیر در هرات در قرن دهم هجری و شانزدهم میلادی تهیه شده است.
ہرات میں سولہویں صدی عیسوی کو "کتاب حبیب السیر" میں "غیاثالدین خواندمیر" کے قلم سے غدیر خم کے مقام پر حضرت علی کی بیعت کی منظر کشی ۔
امام علی(ع) کو تبریک و تہنیت
اس موقع پر، لوگوں نے امیرالمؤمنین(ع) کو مبارکباد پیش کی۔ ابوبکر اور عمر تبریک و تہنیت کہنے والوں میں پیش پیش تھے اور باقی صحابہ ان کے پیچھے پیچھے تبریک و تہنیت کہہ رہے تھے۔ عمر مسلسل کہہ رہے تھے: بخ بخ لك ياعلي اصبحت مولاي ومولٰی كل مؤمن ومؤمنة۔، یعنی مبارک ہو مبارک ہو اے علی آپ ہر مؤمن مرد اور عورت کے مولا و سرپرست ہوگئے۔
مروی ہے کہ رسول الله (ص) کے حکم پر ایک خیمہ بپا کیا گیا اور آپ(ص) نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ گروہ در گروہ آ کر علی علیہ السلام کو امیرالمؤمنین کے عنوان سے سلام کریں، اور حتی کہ ازواج رسول(ص) نے بھی اس حکم نبوی کی تعمیل کی۔
حاضرین کی تعداد
غدیر خم میں حاضر افراد کی تعداد کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے ان کی تعداد 10000 ،بعض نے 12000، بعض نے 17000 ، اور بعض نے 70000 افرادنقل کی ہے۔
غدیر خم کے مقام پر اجتماع کی گنجائش اور سنہ 10 ہجری میں مدینہ کی آبادی کے پیش نظر نیز مکہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر حجاج کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے غدیر خم میں 10000 افراد پر مبنی روایت کو مستند تر اور صحیح تر قرار دیا جاسکتا ہے۔
غدیر کے راوی
تاریخ اسلام میں کم ہی ایسا کوئی مرحلہ اور کوئی واقعہ ہوگا جو سند اور وقوع کے لحاظ سے اس قدر قوی اور مستحکم ہو۔ حدیث غدیر کے راوی بہت ہیں جن میں سے بعض مشہور راویوں کے نام حسب ذیل ہیں:
اہل بیت یعنی امام علی(ع)، حضرت فاطمہ(س)، امام حسن(ع) اور امام حسین(ع)۔ بعد ازاں 110 صحابہ کے نام آتے ہیں جن میں سے بعض کے نام حسب ذیل ہیں:
عمر بن الخطاب، عثمان بن عفان، عائشہ بنت ابی بکر، سلمان فارسی، ابوذر غفاری، زبیر بن عوام، جابر بن عبداللہ انصاری،عباس بن عبدالمطلب، ابوہریرہ وغیرہ، جو واقعہ غدیر کے وقت غدیر خم کے مقام پر حاضر تھے اور انھوں نے یہ حدیث بلاواسطہ طور پر نقل کی ہے۔
بعد ازاں تابعین ہیں جن میں سے 83 افراد نے یہ حدیث نقل کی ہے اور ان میں سے اصبغ بن نباتہ، اور اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیزکے نام قابل ذکر ہیں۔
تابعین کے بعد دوسری صدی ہجری سے لے کر چودہویں صدی ہجری تک 360 علمائے اہل سنت سے یہ حدیث نقل ہوئی ہے؛ جن میں شافعیوں کے امام محمد بن ادریس شافعی، حنابلہ کے امام احمد بن حنبل، احمد بن شعیب نسائی، ابن مغازلی، احمد بن عبداللہ،، احمد بن عبدربہ زیادہ مشہور ہیں۔
شیعہ محدثین اور علماء میں سے بےشمار افراد نے حدیث غدیر کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے جن میں شیخ کلینی، شیخ صدوق، شیخ مفید، شیخ طوسی، سید مرتضی وغیرہ زیادہ مشہور ہیں۔
بہت سے محدثین حدیث غدیر کو حدیث حسن اور بہت سے دوسرے اس کو حدیث صحیح سمجھتے ہیں؛ نیز تمام شیعہ محدثین اور بعض اکابرین اہل سنت اس کو حدیث متواتر سمجھتے ہیں۔
شیعہ اور سنی مفسرین کے مطابق قرآن کی چند آیات حجۃ الوداع کے موقع پر واقعۂ غدیر کے سلسلے میں نازل ہوئی ہیں:
1۔ سورہ مائدہ آیت 3:
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِيناً۔؛
ترجمہ: آج میں نے تمہارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو بحیثیت دین کے پسند کر لیا۔
2۔ سورہ مائدہ آیت 67:
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ۔؛
ترجمہ: اے پیغمبر ! جو اللہ کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے، اسے پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کا کچھ پیغام پہنچایا ہی نہیں اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت کرے گا، بلاشبہ اللہ کافروں کو منزل تک نہیں پہنچایا کرتا۔
3۔ سورہ معارج آیات 1 و 2:
سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ٭ لِّلْكَافِرينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٗ۔؛
ترجمہ: ایک طلب کرنے والے نے طلب کیا اس عذاب کو جو ہونے ہی والا ہے ٭ کافروں کے لئے، اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے۔
مؤخر الذکر دو آیات کریمہ کی تفاسیر میں بیان ہوا ہے کہ رسول الله (ص) نے امیرالمؤمنین(ع) کی ولایت کا اعلان کیا تو نعمان بن حارث فہری آپ(ص) کے قریب آیا اور اعتراض کی حالت میں آپ(ص) سے کہا: "تو نے ہمیں توحید اور اپنی رسالت پر ایمان لانے اور جہاد و حج اور روزہ و نماز اور زکات کا حکم دیا اور ہم نے بھی قبول کیا لیکن تو اس پر راضی نہ ہوا اور اب اس نوجوان کو مقرر کیا اور اس کو ہمارا ولی قرار دیا، کیا یہ اعلان ولایت تو نے اپنی طرف سے کیا یا خدا کی جانب سے؟ جب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ یہ اعلان خدا کی طرف سے تھا تو اس نے انکار کی حالت میں کہا: اگر یہ اعلان خدا کی جانب سے تھا تو ایک پتھر آسمان سے اس کے سر پر آگرے۔ اسی حالت میں آسمان کی طرف سے ایک پتھر اس کے سر پر نازل ہوا اور اس کو وہیں ہلاک کرڈالا اور یہ آیات نازل ہوئیں۔
اسلام میں عید غدیر
مسلمانان عالم اور بالخصوص شیعہ روز غدیر کو بڑی عیدوں میں شمار کرتے ہیں اور یہ دن ان کے درمیان عید غدیر کے نام سے مشہور و معروف ہے۔