ایکنا نیوز-ڈان نیوز کے مطابق یہ واقعہ شمالی بھارتی ریاست جھارکھنڈ میں رانچھی کے قریب ماندر میں پیش آیا، جہاں سالِ نو پر جشن منانے والے ایک گروپ کو تیز آواز میں موسیقی سے روکنے پر ایک مسلمان نوجوان کی جان لے لی گئی تھی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق 19 سالہ نوجوان وسیم انصاری بھارتی شہر پونے میں یومیہ اجرت پر کام کرتا تھا اور کچھ روز پہلے ہی اپنے گاؤں واپس آیا تھا۔
اس حوالے سے ایک سینئر پولیس افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ایک گروپ سالِ نو پر تیز آواز میں موسیقی سن رہا تھا، جب وسیم انصاری اور اس کے 2 دوستوں نے اس گروپ کے پاس جا کر موسیقی بند کرنے کا کہا۔
انہوں نے بتایا کہ وسیم انصاری کے روکنے کے بعد بحث شروع ہوگئی اور گروپ کی جانب سے ان پر حملہ کیا گیا اور لگتا یہ ہے کہ انہیں کسی تیز دھار آلے سے مارا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس حکام نے دونوں برادریوں سے امن برقرار کھنے کی درخواست کی ہے جبکہ اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ملزمان کو جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔
متاثرہ نوجوان کے گاؤں میں رہنے والے حسیب الانصاری نے بتایا کہ گروپ والے مسلمانوں کے قبرستان کے قریب پارٹی کرر ہے تھے، جب وسیم نے انہیں یہ کرنے سے منع کیا تو انہوں نے اسے قتل کردیا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے دوست خوش قسمت تھے کہ وہ وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوئے، مجھے یقین ہے کہ اگر وہ نہیں بھاگتے تو گروپ والے انہیں بھی قتل کردیتے۔
اس واقعہ کے بعد شہریوں نے نیشنل موٹروے کو بلاک کرکے احتجاج کیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، تاہم پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کردیا گیا جبکہ مسلم اور ہندو برادری کے درمیان امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات رہی۔