
ایکنا نیوز سے گفتگو میں الیاس نے جرمنی میں قرآنی کلاسز کے حوالے سے کہا کہ ہم جرمنی میں اکھٹے بیٹھ کر قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ایک فرد تلاوت کرتا ہے تو باقی اسی آیات کو دہراتے ہیں
احمد الیاس نے کہا کہ جرمنی میں قرآنی مراکز اور مساجد بہت کم ہیں جہاں قرآن کی کلاسز ہوسکیں۔
جرمن قاری کا کہنا تھا کہ جرمنی میں لحن، تجوید کی کلاسز کے علاوہ خواتین اور بچوں کے لیے بھی الگ الگ کلاسز منعقد ہوتی ہیں
انکا کہنا تھا کہ چار سال کی عمر سے میں نے قرآن سیکھنا شروع کیا اس وقت میرے والد قاری عبدالباسط، ، منشاوی اور شحات انور کے طرز پر میرے لیے تلاوت کرتے تھے۔
احمد الیاس نے محمود شحات محمد انور کو بہترین قاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے انہیں لندن میں دیکھا اور ان سے ملا۔
جرمن قاری نے ایرانی مقابلوں میں شرکت کے حوالے سے کہا کہ اس سے میرے تجربے میں اضافہ ہوگا ۔
الیاس نے مسلمان طلبا مقابلوں کے آین لاین طرز کو بہترین قرار دیتے ہوئے اس سلسلے کو خوش آیند قرار دیا۔/