
ایکنانیوز – روسیا الیوم کی رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کی وطن واپسی پر مبنی ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان تازہ خونریز جھڑپوں کے دوران مزید 58 فلسطینی شہید 2700 زخمی ہوگئے ہیں۔
14 مئی اسرائیل کی غاصب حکومت کی تشکیل کا منحوس دن ہے اور اسی دن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض خائن عرب حکمرانوں کے ساتھ ملکر امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا ہے۔
گذشتہ روز فلسطینیوں نے عظیم ریلیوں اور مظاہروں کا اہتمام کیا ، ادھر اسرائیلی فوج نے بھی فلسطینی مظاہروں کو کچلنے کا پختہ عزم کررکھا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں گذشتہ روز مزيد 58 فلسطینی شہید 2700 زخمی ہوگے ہیں۔
غزہ کی سرحد پر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اسرائیلی فوج براہ راست فلسطینیوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی ڈرون طیارے نے غزہ پٹی میں فلسطینیوں کے ایک کیمپ پر بھی حملہ کیا ہے۔
فلسطینیوں نے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ عرب لیگ میں فلسطینی سفیر دیاب اللوح نے کہا ہے کہ اس نے مقبوضہ فلسطینی میں جاری اسرائیلی بربریت کے پیش نظر عربب لیگ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔ادھر شام اور مراکش کے عوام نے امریکی سفارتخانہ کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی شدید مذمت کی ہے۔
فلسطینی رہنماؤں نے عرب اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ منتقل کرنے کے خلاف عملی اقدام اٹھائیں اور امریکہ کی اس گھناؤنی سازش کو ناکام بنائیں ۔