
ایکنا نیوز- ترک اخبار ڈیلی صباح میں اپنے مقالے میں ترک تجزیہ نگار پرویز بیلگرمی لکھتا ہے:
مارچ ۱۹۴۵ سے سعودی عرب، مصر، عراق، اردن، شام اور لبنان کی کوششوں سے قایم ہونے والی عرب لیگ کے اس وقت ۲۲ ممالک ممبر ہیں ۔
یہ لیگ آغاز سے اب تک صھیونی اشاروں پر کام کرتی آرہی ہے اور اب تک اس کا کوئی اچھا کام دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اسلامی اصولوں کی بجایے قومی تعصب کی بنیادوں پر بننے والی اس لیگ میں بنیادی خرابیاں موجود ہیں اسی لیے اب تک کوئی کام انجام دینے سے قاصر رہی ہے۔
پرویز کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد بننے والی اس لیگ کے پیچھے برطانیہ کا ہاتھ موجود رہا ہے تاکہ عرب ممالک کو بدستور اپنےتابع رکھ سکے۔
عرب لیگ میں حکام اپنی بقاء کے لیے استعمار سے وابستہ ہیں جبکہ عوام اپنے حکام سے بیزار، مصر جو ایک اہم ملک ہے اس وقت سعودی کی نوکری کررہا ہے کیونکہ السیسی بغاوت سے برسراقتدار آچکا ہے اور وہ سعودی ریال کے محتاج ہے حالانکہ عرب لیگ کا ہیڈ کوارٹر قاہرہ میں موجود ہے
جنگ زدہ ممالک جیسے شام، یمن، لیبیا، عراق اور سومالیا دیگر ممبر ممالک ہیں، جنمیں سے شام کا رکنیت معطل ہے اور فلسطین دوسرں کے چنگال میں اور لبنان داخلی عدم استحکام سے دوچار۔
اس کی ایک اور ناکامی یہ ہے کہ ان میں بعض ممالک نے الگ خلیج فارس کونسل تشکیل دی ہے اور ان میں بھی اختلافات ہیں مثلا سعودی عرب اور امارات و بحرین، قطر کے مخالف بن چکے ہیں اور یمن کے معاملے میں سعودی اور امارات میں اختلافات موجود ہیں۔
ستّر سالوں سے اس لیگ کے کارنامے میں فلسطین پر اسرائیلی قبضہ اور بربریت، سوڈان اور سومالیہ کی تقسیم، عراق پر حملہ اور شام و یمن میں جنگ اور سرحدی مسایل شامل ہیں !
اس لیگ کے ہر اجلاس کے بعد اسرائیل مزید علاقوں پر قبضہ جمالیتا ہے ، خلاصہ سیاسی اور عسکری ہر لحاظ سے یہ لیگ ناکام ترین رہی ہے
وقت آن پہنچا ہے کہ اس لیگ کو ختم کیا جائے یا صرف ثقافتی اور اجتماعی مسائل کے لیے اس کو محدود رکھے اور اس کی جگہ اسلامی تعاون تنظیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دی جائے۔/