ایکنا نیوز- ڈان نیوز-غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ ڈچ پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’سینیٹ نے بل پر اتفاق کرلیا ہے۔‘
بل کی منظوری کے بعد نیدرلینڈز میں کئی سال سے جاری بحث ختم ہوگئی۔
بیان میں کہا گیا کہ ’بل میں تعلیمی اداروں، پبلک ٹرانسپورٹ، سرکاری اداروں اور ہسپتال میں ایسے کپڑوں کے پہننے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے جس سے چہرہ مکمل طور پر ڈھانپ لیا جائے یا صرف آنکھیں دکھیں۔‘
75 رکنی ایوان کے 44 اراکین نے بل کے حق میں جبکہ 31 نے مخالفت میں ووٹ دیئے، جس کے بعد بل کے قانون بننے کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ بھی دور ہوگئی۔
بل کو وزیر اعظم مارک روٹے کے حکمراں اتحاد کی چار میں سے تین جماعتوں کی حمایت حاصل تھی، جبکہ ترقی پسند ڈی سکس سکس پارٹی نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔
بل کے منظور ہونے کے بعد نیدرلینڈز کے داخلہ امور کی وزیر کاجسا اولونگرِن، جو ڈی سکس سکس کی رکن بھی ہیں، پولیس سمیت حکومتی اداروں سے مذاکرات کریں گی جن میں اس پابندی پر عملدرآمد کا طریقہ کار طے کیا جائے، جبکہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 400 یورو (466 ڈالر) جرمانہ عائد ہوگا۔
ڈچ کابینہ نے اس منصوبے کی منظوری 2015 کے وسط میں دی تھی، لیکن ملک کی سڑکوں پر ’نقاب‘ پر پابندی عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
نیدرلینڈز سے قبل آسٹریا، بیلجیئم، فرانس اور جرمنی میں بھی اس طرح کی پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں، جس کے بعد یورپ اور اسلامی برادریوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
فرانس وہ پہلا یورپی ملک تھا جس نے اپریل 2011 میں عوامی مقامات پر اسلامی نقاب پر پابندی عائد کی تھی۔