
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے euronews؛ کے مطابق دوسواٹھتر انسانی حقوق کے محقیقن نے ایک بیان میں مطالبہ کیا کہ چینی مسلمانوں پر مظالم کے خلاف خاموشی کا مطلب اقدامات کو درست ماننا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سینکیانگ میں مسلم مہاجروں کی دوسرے ممالک میں پناہ دی جائے اور اقوام متحدہ کی جانب سے جیل نما کمیپوں کو بند کیا جایے۔
محققین نے ظالمانہ اقدامات روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جرایم میں ملوث اداروں کے خلاف سلامتی کونسل پابندی لگانے کا اہتمام کرے۔
چین کے سینکیانگ صوبے میں ایغور مسلمانوں پر مظالم اور سختی کی وجہ سے چین کو عالمی اداروں کی جانب سے دباو کا سامنا ہے اور مغربی ممالک کے مطابق دس لاکھ مسلمان مختلف تربیتی کیمپوں میں نظربند کیے گیے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کو نظربند کرنے کی اطلاعات درست ہیں اور یہ سلسلہ بند کرنا لازمی ہے۔
ترک نژاد اویغور قوم چین کے علاقے اورومچی میں آباد ہے اور کہا جاتا ہے کہ چین میں مجموعی طور پر ۴۰ ملین مسلمان رہتے ہیں جنپر ان دنوں سخت مذہبی پابندیاں عاید کی جارہی ہیں۔/