‘خاشقجی کے قتل کے دوران سعودی ولی عہد اپنے مشیر سے رابطے میں تھے‘

IQNA

‘خاشقجی کے قتل کے دوران سعودی ولی عہد اپنے مشیر سے رابطے میں تھے‘

15:40 - December 02, 2018
خبر کا کوڈ: 3505422
بین الاقوامی گروپ-امریکی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے پہلے اور بعد میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان 11 پیغامات کے تبادلے ہوئے تھے۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' نے اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ ایجنسی 'سی آئی اے' کی انتہائی خفیہ رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ 'محمد بن سلمان اور ان کے خصوصی مشیر کے درمیان قتل کے وقت پیغامات کا تبادلہ ہوا تھا۔'

 

واضح رہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی کو 2 اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

 

اخبار کی رپورٹ کے مطابق ’محمد بن سلمان اور ان کے مشیر کے درمیان پیغامات کے تبادلے سے متعلق معلومات سی آئی اے کی انتہائی خفیہ دستاویزات سے حاصل کی گئی‘۔

 

اس حوالے سے کہا گیا کہ دونوں کے درمیان ’پیغامات کا متن‘ تاحال واضح نہیں ہے۔

 

اخبار کے مطابق خفیہ ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا کہ ’اگر دوٹوک الفاظ میں کہا جائے تو ہمارے پاس سعودی ولی عہد کے براہ راست قتل میں ملوث ہونے کے شواہد ناکافی ہیں‘۔

 

رپورٹ کے مطابق 'سعودی ولی عہد کے مشیر سعود القحطانی نے 15 رکنی ٹیم کی قیادت کی تھی اور وہ استنبول میں موجود ٹیم سے براہ راست رابطے میں تھے۔'

 

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ہم نے اخذ کیا کہ جمال خاشقجی کا قتل محمد بن سلمان کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا‘۔

 

دوسری جانب سی آئی اے کے ترجمان نے مذکورہ رپورٹ پر تبصرے سے انکار کردیا۔

 

اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو کہا تھا کہ انٹیلی جنس سے متعلق امور پر انتظامیہ تبصرہ کرنے سے قاصر ہے‘

 

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سی آئی اے نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ’جمال خاشقجی کے قتل میں محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کا امکان ہے‘۔

 

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'سی آئی اے' کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ممکن ہے محمد بن سلمان نے کیا ہوا اور ممکن ہے کہ نہ کیا ہو‘۔

نظرات بینندگان
captcha