ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق وائٹ ہاؤس ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے فوج کی واپسی کے لیے پینٹاگون کو حکم نہیں دیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اس طرح کی متضاد رپورٹس آئی تھیں کہ انہوں نے فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ 7 ہزار جوانوں کو افغان تنازع سے واپس بلا لے۔
امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان گیرٹ مارکیوس نے بذریعہ ای میل بیان میں کہا کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کو کم کرنے کا کوئی عزم ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت کی کہ وہ افغانستان سے فوجیوں کی کمی کے عمل کا آغاز کرے‘۔
واضح رہے یہ بیان امریکی محکمہ دفاع کے عہدیدار کے بیان کے ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد سامنے آیا۔
اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع کے عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فوج کے انخلا کی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہ کیا تھا کہ پینٹاگون نے افغانستان میں 14 ہزار فوج میں سے 7 ہزار کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کو دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ نے وسیع پیمانے پر رپورٹ کیا تھا، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کی تردید کردی گئی۔
دوسری جانب وائس آف امریکا نے رپورٹ کیا تھا کہ افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے افغان کمانڈر جنرل اسکوٹ ملر نے کہا تھا کہ انہیں فوجیوں کی تعداد میں تبدیلی سے متعلق کوئی احکامات نہیں ملے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی خبروں کے بعد یہ کہا جارہا تھا کہ یہ فیصلہ امریکی عہدیدار زلمے خلیل زاد اور طالبان کے درمیان ابو ظہبی میں ہونے والی ملاقات میں سامنے آیا جو طالبان کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لانے کی ایک کوشش تھی۔
مذکورہ ملاقات میں دیگر معاملات کے ساتھ طالبان کی جانب سے طویل عرصے سے کیے جانے والےفوجوں کے انخلا کے مطالبے پر بھی گفتگو کی گئی۔
خیال رہے کہ اس وقت امریکا کے 14 ہزار فوجی دستے افغانستان میں تعینات ہیں جو یا تو نیٹو مشن کے ساتھ افغان فوج کی حمایت کے لیے کام کررہے ہیں یا علیحدہ طور پر دہشت گردی کے خلاف آپریشن کررہے ہیں۔