
ایکنا نیوز- رشیا الیوم نیوز کے مطابق قبطی مسیحیوں کے کلیسا ترجمان «بولس حلیم» نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ملکی سالمیت، دہشت گردی سے مقابلہ اور قومی مفاد کے لیے صدر مملکت کا اقدام قابل تعریف ہے۔
انکا کہنا تھا کہ امید کی جاتی ہے کہ دیگر ادارے اور مراکز بھی شدت پسندی سے مقابلہ کے لیے کردار ادا کریں گے اور عوام بھی اس حوالے سے تعاون کریں گے۔
بولس حلیم کا مزید کہنا تھا: فرقہ واریت سے نمٹنے کے لیے کمیٹی کے قیام سے مصر میں ہم آہنگی اور برادری کی فضاء کو تقریت ملے گی۔
انکا کہنا تھا کہ شدت پسندی ملکی ترقی کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے اور اسکے خاتمے سے ملک کا روشن چہرہ دنیا پر واضح ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دنوں مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے فرقہ وارانہ فسادات سے نمٹنے کے لیے خصوصی کمیٹی کے قیام کا حکم جاری کیا تھا۔
صدارتی فرمان پر فرقہ وارانہ مسایل سے نمٹنے کے کیے کمیٹی کی سربراہی صدر مملکت کریں گے جبکہ اس کمیٹی میں دیگر مسلح فورسز کے اعلی عہدہ داران بھی شامل ہیں۔/