
ایکنا نیوز- خبررساں ادارے «رشیاء الیوم» کے مطابق حضرت هابیل ( حضرت آدم کے دوسرے بیٹے) کا مزار جو داعش کے حملوں کے بعد سے سالوں سے بند تھا دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
دمشق سے پچاس کیلو میٹر فاصلے پر واقع مزار ہابیل ۱۶ ویں صدی کو قاسیون کے پہاڑ پر ایک گاوں میں تعمیر کیا گیا تھا۔

مزار کے متولی محمد مخلف محمد نے مزار کی مرمت سازی میں معاونت کی درخواست کی ہے تاکہ بجلی اور دیگر ضروریات پوری کی جاسکے۔
هابیل حضرت آدم(ع) و حوا کے دوسرے بیٹے تھے ، انکو عبادت و تقوی کی بناء پر آدم کی جانشینی کا حکم ملا تھا اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ قابیل کی جڑواں بہن اقلیما، سے شادی کریں مگر قابیل چاہتا تھا کہ چونکہ وہ بڑا ہے لہذا جانشینی اور اقلیما سے شادی کا حق انہیں حاصل ہے۔
دونوں میں بحث کے عبد طے پایا کہ دونوں قربانی دیں گے اور جسکی قربانی قبول ہوئی وہی اقلیما سے شادی کریں گا اور جانشینی کا حق حاصل ہوگا، ہابیل کی قربانی قبول ہوتی ہے اور حسد کی وجہ سے قابیل انکو قتل کردیتا ہے، قرآن میں واضح طور پر ہابیل کا نام تو نہیں آیا ہے تاہم آدم کے دو بیٹوں کا ذکر ہے جن سے یہی دو مراد ہیں ، انکے حوالے سے ذکر سوره مائده میں واقعہ بیان کیا گیا ہے اور تورات میں بھی هابیل و قابیل کا ذکر موجود ہے۔/