امریکا-طالبان مذاکرات کے نئے مرحلے کا آغاز

IQNA

امریکا-طالبان مذاکرات کے نئے مرحلے کا آغاز

17:04 - March 03, 2019
خبر کا کوڈ: 3505812
بین الاقوامی گروپ- امریکہ پانچ سال میں نکلنے کا معاہدہ طے پایا ہے/ طالبان کویی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق زلمی نے جمعرات کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں کہا کہ مذاکرات کار 3 روزہ مذاکرات کے بعد 2 روز کا وقفہ لے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم امن کے لیے سست مگر مستحکم اقدامات کر رہے ہیں‘۔

مذاکرات میں امریکی ٹیم کی سربراہی کرنے والے زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے 4 اہم امور پر غور کیا جارہا ہے جن میں امریکی فوج کا افغانستان سے انخلا، طالبان کی القاعدہ اور داعش کی جنگ میں معاونت، جنگ بندی اور حکومت سمیت تمام افغان اداروں کی مذاکرات میں شمولیت شامل ہے۔

 

خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ’دوحہ میں مذاکرات کے بحال ہونے کے ساتھ ساتھ افغانستان کی اندرونی سطح پر طالبان سے بحث اور مذاکرات کے لیے کابل میں ٹیم تشکیل دی جارہی ہے‘۔

قطر میں طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار ہے اور مذاکرات کے اس مرحلے میں اسے حتمی شکل دی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے نمائندے اور ناروے کی حکومت مذاکرات میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

نیو یارک ٹائم کا کہنا تھا کہ دوحہ میں مذاکرات کے شرکا 5 سال میں تمام امریکی افواج کے انخلا پر ایک منصوبہ تشکیل دینے کا کام کر رہے ہیں۔

پینٹاگون کی جانب سے تیار کیے گئے اس منصوبے کے تحت تمام غیر ملکی افواج کو افغانستان سے 5 سال میں نکلنا ہوگا۔

تاہم طالبان حکام نے صحافیوں کو بتایا کہ انخلا کے حتمی وقت کے حوالے سے اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔

یہ اب بھی واضح نہیں کہ طالبان، افغان حکومت کے عہدیداروں سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ حال ہی میں امریکہ کی جانب سے ٹال مٹول کے بعد گذشتہ روز ہلمند میں طالبان نے بڑا حملہ کیا جسمیں سینکڑوں ملکی اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعوی کیا گیا ہے۔

کابل کی مسلسل درخواستوں کے باوجود طالبان نے افغان حکومت سے مذاکرات کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ امریکا نے بھی اصرار کیا ہے کہ افغانستان پر حتمی معاہدے میں حکومت کو بھی شامل ہونا چاہیے۔

امریکا نے یہ بھی کہا کہ امن مرحلے کی کامیابی کے لیے مکمل جنگ بندی ناگزیر ہے۔

نظرات بینندگان
captcha