سینچری ڈیل پر ھارورڈ یونیورسٹی استاد کا رد عمل

IQNA

سینچری ڈیل پر ھارورڈ یونیورسٹی استاد کا رد عمل

9:53 - June 28, 2019
خبر کا کوڈ: 3506284
بین الاقوامی گروپ- اسٹیفن والٹ نے ٹوئٹ میں میں سینچری ڈیل پر رد عمل ظاہر کیا ہے۔

ایکنا نیوز- فلسطینی میڈیا کے مطابق ڈیفینسیو رئالیسم کے نظریہ پرداز اسٹیفن والٹ کا کہنا ہے: جو لوگ کہتے ہیں کہ ٹرمپ کے دامار کوشنر کا منصوبہ بیکار ہے وہ مسئلے کو نہیں سمجھ سکے ہیں البتہ طے بھی نہیں پایا ہے کہ اس کا اہم ایجنڈہ ہو تاہم وقت کے ساتھ معاملے کو ٹھنڈا کرنا اور اسرائیل کی سلامتی بیشک منصوبے کا حصہ ہے۔

 

قابل ذکر ہے کہ وائٹ ہاوس نے منصوبے میں پچاس ارب ڈالر سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا جو میڈیا کے مطابق سینچری ڈیل اور امریکی و اسرائیلی ایجنڈے میں شامل ہے۔

 

ٹرمپ نے کہا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ عصر حاضر کا اہم ترین مسئلہ ہے اور اگر حل ہوجائے تو یہ «صدی کا ڈیل» کہا جاسکتا ہے۔

 

سینچری ڈیل میں دعوی کیا گیا ہے کہ فلسطینوں کے لیے سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ لاکھوں افراد کو روزگار ملنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

 

سینچری ڈیل کے زریعے سے فلسطینیوں کو انکے حقوق سے محروم کرنے اور سرزمین سے بیدخل کرنے کے خدشات بھی موجود ہیں۔

 

جرڈ کوشنر نے معاملے کو عرب پیس سے مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اور اسرائیل کے درمیان معاملہ حل ہوئے بغیر عرب پیس ممکن نہیں۔

 

منصوبے کے مطابق اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات کے بعد منصوبے پر کام شروع کرنا تھا تاہم نتین یاہو کی کابینہ تشکیل میں ناکامی کے منصوبے کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔

 

امریکی حکام کے مطابق نومبر کے بعد سینچری ڈیل کو منصوبہ عملا شروع کیا جاسکتا ہے۔/

3822820

نظرات بینندگان
captcha