IQNA

10:22 - July 02, 2019
خبر کا کوڈ: 3506307
بین الاقوامی گروپ امریکی لاء پروفیسر کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے خلاف جنگ تاریخ کا حصہ ہے اور اسکی جڑ برتری طلبی ہے۔

ایکنا نیوز- امریکی یونیورسٹی پیٹسبرگ کے استاد اور ماہر قانون ڈنیل کوالیک نے ایک سیمینار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

ماضی سے لیکر اب تک تاریخ کو دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ دنیا سے خود کو ممتاز اور الگ سمجھتا ہے اور بین الاقوامی قوانین سے خود کو مستثناء قرار دیتا ہے۔

 

انکا کہنا تھا: صرف ایران کے خلاف مسئلہ نہیں بلکہ ویتنام حملے سے لیکر اب تک جنگ اور جنگ کی باتیں ہی ہوتی ہیں جو ایک لاابالی حرکت ہے۔

 

پیٹسبرگ یونیورسٹی کے استاد کا کہنا تھا: بظاہر امریکہ ایران کے خلاف تلافی کی بات کرتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خود کو مسائل اور قوانین سے مبرا تصور کرتا ہے۔

 

انکا کہنا تھا: امریکہ جھوٹ کہتا ہے کہ وہ دفاع کررہا ہے بلکہ اس کا عمل حقیقت کو دیکھاتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ دوسروں پر حملہ اسکا پیدائشی حق ہے۔

 

کوالیک کا کہنا تھا کہ عراق پر حملے کے لیے بھی امریکی وزارت دفاع نے جعلی اسناد سے کام لیا۔

 

کوالیک نے امریکی جنگ طلبی کے حوالے سے کہا: علاقے میں امریکی بیڑے موجود ہیں اور انکا ڈرون ایران کے علاقوں میں گھس جاتا ہے اور ایسا کرے گا تو انکا حق بنتا ہے کہ اس کو داخل ہونے سے روکے۔/

3823661

نام:
ایمیل:
* رایے: