IQNA

12:38 - September 18, 2019
خبر کا کوڈ: 3506641
بین الاقوامی گروپ-افغان طالبان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگر مستقبل میں امن مذاکرات بحال کرنا چاہتے ہیں تو ان کے 'دروازے کھلے ہیں'۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے طالبان کے مرکزی مذاکرات کار شیر محمد عباس ستانکزئی نے اس پر زور دیا کہ 'افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے'۔

مرکزی مذاکرات کار نے امریکا کے تحفظات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے کچھ غلط نہیں کیا۔

امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 'انہوں نے ہزاروں طالبان کو ہلاک کردیا لیکن اسی اثنا میں اگر ایک (امریکی) سپاہی مارا جاتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اس طرح کا ردعمل ظاہر کریں کیونکہ دونوں جانب سے کوئی جنگ بندی نہیں ہوئی'۔

شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ 'ہماری جانب سے مذاکرات کے لیے دروازے کھلے ہیں، لہٰذا ہم امید کرتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی مذاکرات سے متعلق اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گا'۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر معاہدے پر عمل ہوتا تو طالبان اور غیر ملکی افواج کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد ہوچکا ہوتا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور افغان حکومتی فورسز کے درمیان اس طرح کی کوئی جنگ بندی موجود نہیں۔

شیر محمد عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ انٹرا افغان مذاکرات 23 ستمبر کو شروع ہونے تھے اور اگر معاہدہ طے پاجاتا تو اس میں وسیع تر جنگ بندی سے متعلق معاملات شامل ہوتے۔

دوران انٹرویو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ امن مذاکرات میں مدد کے لیے طالبان نے روس اور چین سے رابطہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ طالبان کے مرکزی مذاکرات کار کا یہ انٹرویو امریکی صدر کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے افغان امن مذاکرات معطل کردیے تھے۔

علاوہ ازیں افغان قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ طالبان کے 'دھمکی آمیز ہتھکنڈے' کامیاب نہیں ہوں گے۔

نام:
ایمیل:
* رایے: