IQNA

16:47 - September 23, 2019
خبر کا کوڈ: 3506661
بین الاقوامی گروپ- وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بیرون ملک مقیم پاکستانی زلفی بخاری نے 'کشمیر امہ کا مسئلہ نہیں' سے متعلق بیان پر کہا ہے کہ 'امہ والا بیان سعودی عرب نے نہیں متحدہ عرب امارات نے دیا تھا'۔

ایکنا نیوز- ڈان نیوز کے مطابق برطانوی آن لائن اخبار انڈپینڈنٹ کی اردو سروس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں زلفی بخاری نے وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب سے متعلق بات کی۔

دوران گفتگو ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کہہ چکے ہیں کہ کشمیر امہ کا مسئلہ نہیں تو اس پر وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے کیا بات کی؟

اس پر زلفی بخاری نے کہا کہ 'امہ والا بیان سعودی عرب نے نہیں متحدہ عرب امارات نے دیا تھا جبکہ سعودی ولی عہد نے یقین دہانی کرائی کہ اکتوبر میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس بلایا جائے گا تاکہ مسئلہ کشمیر کو مزید اجاگر کیا جاسکے'۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کا مقصد محمد بن سلمان کو کشمیر کے مسئلے کی حساسیت سے آگاہ کرنا تھا اور دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ وہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی وزیراعظم سے بات کریں گے۔

زلفی بخاری نے کہا کہ بھارت کے سعودی عرب کے ساتھ مفاد جڑے ہوئے ہیں، جس کے باعث کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ ہی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ ایک ساتھ پاکستان آئے تھے اور پاکستان کی اہم سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کی تھیں، جس میں بھارت کے 5 اگست کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔

اس دورے کے بعد اس طرح کی خبریں زیرگردش تھیں کہ ان وزرائے خارجہ نے پاکستان کی 'حکومت کو کہا کہ کشمیر کو مسلم امہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے'۔

تاہم 12 ستمبر کو دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ کے دورہ پاکستان سے متعلق ذرائع ابلاغ میں گردش کرنے والی رپورٹس کو مسترد کردیا تھا۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں ان رپورٹس کو 'قیاس آرائیاں'قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں حکام نے 'پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر کاز کے لیے حمایت کی یقین دہانی کروائی'۔

نام:
ایمیل:
* رایے: