IQNA

9:08 - October 18, 2019
خبر کا کوڈ: 3506752
بین الاقوامی گروپ: بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگئی 17 نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی بھارت کی اعلیٰ عدالت فیصلہ سنادے گی۔ ا
ایکنا نیوز. شفقنا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کیس کی سماعت چیف جسٹس رنجن گوگئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی۔ سپریم کورٹ میں 40 روز سے جاری بابری مسجد کیس کی سماعت آج مکمل ہوئی، جس کےبعد فیصلہ محفوظ کیاگیا جبکہ عدالت نے فریقین کو مزید دلائل جمع کرانے کیلئے 3 دن کی مہلت بھی دی ہے۔
 
سپریم کورٹ نےالٰہ آباد ہائی کورٹ کےستمبر 2010 کے فیصلے کے خلاف دائر 14 اپیلوں پر سماعت کی جس میں سنّی وقف بورڈ، نرموہی اکھاڑہ اور رام لالہ کے درمیان ایودھیا میں 2.77 ایکڑ متنازع زمین کو برابر تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ سماعت کے آخری روز مسلمانوں کی جانب سے سینیئر ایڈوکیٹ راجیو دھون نےہندو فریق کی جانب سےپیش کیے گئےنقشے کو مسترد کرتے ہوئے پھاڑ دیا جس کے بعد عدالت میں فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی تاہم ہندو فریق کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا۔
 
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگئی 17 نومبر کو ریٹائر ہورہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی بھارت کی اعلیٰ عدالت فیصلہ سنادے گی۔اُدھر بابری مسجد کیس کے فیصلے سے قبل ہی سیکیورٹی یقینی بنانے اور حالات قابو میں رکھنے کیلئے ضلع ایودھیا میں دفعہ 144 نافذ ہے۔ ضلع بھر میں 10 دسمبر تک 4 یا 4 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔ 
 
1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا تھاحکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دیے، جس کے بعد معاملے کے حل کیلئے کئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔
نام:
ایمیل:
* رایے: