ملایشیاء میں اسلامی سربراہ سمٹ/ صھیونی مظالم کی مذمت

IQNA

ملایشیاء میں اسلامی سربراہ سمٹ/ صھیونی مظالم کی مذمت

10:00 - December 20, 2019
خبر کا کوڈ: 3506989
بین الاقوامی گروپ – اسلامی سربراہ سمٹ ایرانی صدر کی شرکت کے ساتھ منعقد ہوا جسمیں صھیونی مظالم کو روکنے پا تاکید کی گیی۔

ایکنا نیوز- خبررساں ادارے «النشرة» کے مطابق امیر قطر «تمیم بن حمد آل ثانی»‌ نے صھیونی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔

 

 

امیر قطر میں خطاب میں اسرائیل پالیسیوں کو علاقے میں بدامنی کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صھیونی قبضہ گیری کو جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

 

انکا کہنا تھا کہ صھونی اقدامات کی حمایت اور بین الاقوامی اصول و قوانین کو نظر انداز کرنے سے مسایل میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔

 

امیر قطر کا کہنا تھا کہ قطر «طاقت کا غلط استعمال، محاصره، بھوک اور آمرانہ حکمرانی» کو رد اور مذاکرات کو راہ حل قرار دیتا ہے۔

 

روزنامه «ینی شفق» کے مطابق ترک صدر «رجب طیب اردوغان» نے اقوام متحدہ کے ڈھانچے کو نادرست قرار دیتے ہوئے کہا: دنیا کی ۱,۷ ارب مسلمان آبادی کے تقدیر کو پانچ دائمی رکن یعنی امریکہ،برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے سپرد کرنا مناسب نہیں۔

 

ترک صدر نے کہا کہ تمام اسلامی ممالک کو چاہیے کہ فوری طور پر ڈالر کو ختم کرکے مقامی کرنسی میں لین دین کرنا چاہیے۔

 

العربی الجدید کے مطابق اجلاس میں مسلہ کشمیر، میڈل ایسٹ اور شام و یمن کے علاوہ روھنگیا مسلمانوں اور چین کے مسلمانوں کے مسایل پر بھی بات چیت کی گیی۔

 

ملایشیاء سمٹ پر صھیونی رژیم اور سعودی برہم

 

ایک اہم صھیونی ادارہ جسکا سربراہ سابق صھیونی ڈپٹی وزیر خارجہ کررہا ہے کا کہنا تھا کہ مذکورہ اجلاس نہایت اہم ہے اور اسرائیل کو اس پر نظر رکھنی ہوگی اور بالخصوص اس میں ایرانی صدر کی شرکت قابل توجہ ہے۔

 

ملایشین سمٹ میں اسلاموفوبیا کا بھی جایزہ کیا گیا جبکہ اجلاس کے شروع ہوتے ہی سعودی میڈیا نے اس کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔

 

ریاض اس بات سے خوفزدہ ہے کہ مذکورہ سمٹ سے سعودی کردار اور او آئی سی متاثر ہوسکتا ہے۔

 

ملک سلمان نے اجلاس میں شرکت کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ اس اجلاس کو او آئی سی کی زیرنگرانی منعقد کرنا چاہیے تھا.

 

او آئی سی کا اعتراض

 

او آئی سی کے جنرل سیکریٹری «یوسف العثیمین» نے عربی اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا: اسلام امہ کے لیے درست نہیں کہ ایسے اجلاس او آئی سی کے پلیٹ فارم سے ہٹ کر منعقد کرنا مناسب نہیں۔

 

العثیمین کا کہنا تھا: ایسے اجلاس سے تفرقہ پڑ سکتا ہے اور اس وقت جب ہر طرف افراتفری کا عالم ہے امہ کے لیے درست نہیں کہ ایسے طرز پر اجلاس منعقد کیا جائے۔

 قابل ذکر ہے کہ عمران خان نے آخری وقت میں سعودی حکام کے ایماء  پر اجلاس میں شرکت سے معذرت کی۔/

3865296

نظرات بینندگان
captcha