IQNA

8:56 - June 15, 2020
خبر کا کوڈ: 3507768
تہران(ایکنا) امریکہ میں نسل پرستی کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے اور بہت سے معروف شخصیات کے مجسمے یکے بعد دیگرے گرائے جارہے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ ٹرمپ کے خلاف بڑھتی نفرت کی کے پیش نظر وہ بھی گرایا جاسکتا ہے اور انتخابات میں انکی شکست رقم ہوسکتی ہے۔

 

جورج فلائیڈ کے قتل اور پولیس طرز عمل نے ثابت کردیا کہ امریکہ میں نسل پرستی کی بیماری کی جڑیں بہت پرانی ہیں اور ۱۹۶۰ میں غلامی کے قانون کے خاتمے کے باوجود بھی اس حوالے سے تعصب کا عمل جاری ہے۔

 

موجودہ صدر کے آنے کے بعد سے سفید فام مسیحیوں کے تعریف نے نسل پرستی کو مزید ہوا دی ہے اور ٹرمپ تعصب کے استعارے میں بدل چکا ہے جو امریکی تاریخ کی نسل پرستی کی عکاسی کررہا ہے۔

 

نسل پرستی کے خلاف مظاہروں میں تمام امریکی مجسموں کو گرایا جارہا ہے

اور ایوان نمایندگان کی سربراہ نینسی پلوسی نے مطالبہ کیا ہے کہ فوجی مجسموں اور غلامی دور میں نصب کردہ دیگر مجسموں کو ہٹایا جائے کیونکہ یہ نفرت کے نشان ہے تاہم ٹرمپ نے اس مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔

 

وائٹ ہاوس ترجمان کایلی ماکینانی نے مظاہرے کو «مجسموں سے جنگ» قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ گذشتہ دنوں امریکہ کو دریافت کرنے والے کریسٹوفر کلمب کے مجسمہ گرا دیا گیا جنکو سیاہ فاموں کے قاتل شمار کیا جاتا ہے۔

بوسٹن میں بھی کیسٹوفر کلمب کے مجسمے کا سرکاٹا گیا۔

امریکی غلامی کے حامی جفرسون ڈیویس، غلامی دور کے معروف سیاست داں فرانک ریزو کے مجسمے بھی گرائے جارہے ہیں۔

مجسموں سے جنگ کا آغاز برطانیہ سے ہوا جہاں غلاموں کے معروف تاجر اڈوارڈ کولسٹون کا مجسمہ گرایا گیا اور پھر یہ جنگ بلجیم اور سوئیڈن میں شروع ہوئی۔

 

امریکہ میں ان مجسموں کو گرانے کا سلسلہ ممکنہ طور پر ٹرمپ اور امریکہ کنفیڈریشن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوسکتا ہے جس کا اظھار بھی واشنگٹن پوسٹ کرچکا ہے۔/

3904700

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: