IQNA

9:38 - June 28, 2020
خبر کا کوڈ: 3507827
تہران(ایکنا)شامی ماہرین صحت کے مطابق امریکی پابندیوں سے براہ راست شامی شہریوں کی صحت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے شام کے مختلف حیاتیاتی، ایگریکلچر اور صنعتی شعبوں پر پابندی لگائی گئی ہے جو یہاں کے عوام کی صحت کو  اثر انداز ہوسکتی ہے۔ ایک طرف جہاں شامی عوام کو کرونا وائرس کا سامنا ہے وہاں پر اس قسم کی پابندیاں یقینی طور پر یہاں کے عوام کے صحت کے مسائل پرخطرناک اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سنا نیوز نے شامی جنگ میں خدمات دینے والے حلب کے الرزای ہسپتال کے حکام سے گفتگو کی ہے۔ ہسپتال ایم ایس معین دبا کے مطابق اس پابندیوں کی وجہ سے یہ مختلف اینٹی بائیوٹیک اور دیگر ادویات فراہم کرنے والی کمپنیاں اس پابندی کے بعد تعاون اور دوا کی فراہمی سے انکار کررہی ہیں۔ اسپتال میں مختلف قسم کے وسائل اور سامان کے حوالے سے بھی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہسپتال کے ڈاکٹر سعد اللہ کیالی کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے بعد سے مختلف کمپنیوں نے ہمیں دوا  دینے سے انکار کر دیا ہے اور بعض دیگر کمپنیاں اس حوالے سے ناجایز فایدہ اٹھانے  کی کوشش کررہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف قسم کی دوائیاں اب تک ہمیں بعض دوست ممالک کی جانب سے مل رہی ہیں تاہم آنے والے وقتوں میں اس کے منفی اثرات یہاں کے شامی عوام کو متاثر کرسکتے ہیں۔

 

ہسپتال کے لیبارٹریز انچارج شریف کیالی کا کہنا تھا کہ مریضوں کی سہولت کے لیے موجود مختلف مشینریز خرابی کا شکار ہے تاہم پابندیوں کی وجہ سے اس کی تعمیر میں ہمیں مشکلات کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ جون کے اوائل میں امریکی قانون کے تحت شام پر مختلف اقتصادی پابندیاں عائد کی گیی ہیں جنکی وجہ سے دیگر ممالک کو بھی یہاں کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنے سے روکا گیا ہے۔/

3907233

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: