گھر میں کتے پالنے کے فتوی پر جنجال

IQNA

گھر میں کتے پالنے کے فتوی پر جنجال

10:43 - August 18, 2020
خبر کا کوڈ: 3508088
تہران(ایکنا) مصری مفتی کے گھروں میں کتے پالنے بارے فتوے پر سوشل میڈیا میں بحث چھڑ گیا ہے۔

مصری مفتی «شوقی علام» جو صدی البلد سے گفتگو میں گھروں میں کتے پالنے بارے سوالات کے جوابات دئیے۔

 

مفتی کا کہنا تھا: علما کا اس بارے میں اختلاف ہے اور اکثر کا کہنا ہے کہ کتا نجس ہے لیکن مالکی فقہ کے مطابق کتا نجس نہیں اور صاف ہے اور اگر لباس اس سے لگ جائے تو نماز میں اشکال نہیں۔

 

وزارت اوقاف کے عبدالله رشدی نے اس بارے فیس بک پیچ پر کہا ہے: مالکی فقہ کے مطابق لباس لگنے کے بعد دھونا ضروری ہے تاہم دیگر مذاہب کا کہنا ہے کہ لباس کے ساتھ بدن کو بھی دھونا چاہیے۔

 

انکا کہنا تھا: مالکی فقہ کے مطابق کتے سے لگنے کے بعد وضو باطل نہیں ہوتا اور وضو درست ہے لیکن دیگر کے مطابق بدن کو دھونا ہوگا۔

 

مذکورہ عالم کا کہنا ہے کہ مالکی فقہ کے مطابق ضرورت چوپانی اور چوکیداری ضرورت کے تحت کتا رکھا جاسکتا ہے مگر بلا ضرورت رکھنے سے گھر میں فرشتوں کی آمد و رفت بند ہو سکتی ہے۔/

3917146

 

نظرات بینندگان
captcha