
ملک کے مختلف علاقوں میں سخت سیکیورٹی میں ماتمی جلوس نکالے گئے جس میں عزاداروں نے ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کیا۔
جلوسوں کے راستوں میں بڑی تعداد میں نذر و نیاز کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے جبکہ متعدد شہروں میں جلوس کی گزرگاہوں میں موبائل فون سروس بند کی گئی اور موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد تھی۔
کوئٹہ میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس شہدا چوک علمدار روڈ سے برآمد ہوا تھا۔
جلوس بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید داود آغا کی زیر قیادت برآمد ہوا تھا جو 30 دستوں پر مشتمل تھا۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق جلوس روایتی راستوں سے ہوتا ہوا میزان چوک پہنچا جہاں عزاداروں نے نماز ظہرین ادا کی۔
انتظامیہ کے مطابق عاشورہ کے مرکزی جلوس کے لیے پولیس، لیویز اور ایف سی کے 10 ہزار اہلکار تعینات تھے۔







