IQNA

9:57 - September 13, 2020
خبر کا کوڈ: 3508208
تہران(ایکنا) پاکستان بھر کے شیعہ علما نے قرآن سوزی اور توہین رسالت کی مذمت اور وحدت کو لازم قرار دیا۔

علما کانفرنس کے اعلامیے میں ذیل کی نکات پر تاکید کی گئی ہے:

1)         آج کا یہ عظیم الشان اجتماع فرانس سے شائع ہونےوالے چارلی ایبڈو میگزین میں پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان اقدس کےحوالےسے شائع کردہ گستاخانہ خاکوں اور سویڈن میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے مذموم واقعے کی پرزور مذمت کرتاہے۔

 

2)         یہ اجتماع عرب امارات، بحرین اوردیگر عرب ممالک کے اسرائیل کےساتھ تعلقات کی بحالی کو فلسطینی موقف سے کھلا انحراف سمجھتے ہوئے اس صورتحال پر اپنے غم و غصہ کا اظہارکرتاہے۔

 

3)         علماءوذاکرین کانفرنس کا یہ عظیم الشان اجتماع مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ان پر توڑے جانے والے بھارتی مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے۔

 

4)         پاکستان کا آئین اپنے تمام شہریوں کو اظہار رائے کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے اور ملت تشیع اس کی دفاعی و نظریاتی سرحدوں کی محافظ ہے ۔اس ملت نے طول تاریخ میں ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی دے کر وطن عزیز کو عدم استحکام کا شکار ہونے سے بچایا ہے اور کسی بھی صورت شرپسند عناصر کو فرقہ واریت پھیلانے کا موقع نہیں دیا۔اور نہ ہی آئندہ اس قسم کی کسی کوشش کو کامیاب ہونے دیاجائےگا۔

 

5)         یہ عظیم الشان اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ملک بھر میں مجالس عزا اور روایتی جلوسوں کے خلاف جو ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں ان کو فی الفور واپس لیا جائے اوریہ اجتماع یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عزاداری سید الشہداء کے راستے میں آنے والی کسی بھی رکاوٹ کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا لہٰذا ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کیا جائے ورنہ حالات کی تما م ترذمہ داری ارباب اختیار پر ہوگی۔

 

6)         شیعہ قوم کےقائدین و بزرگان پوری امت کو ہمیشہ اتحاد ووحدت کی دعوت دی ہے اور فرقہ واریت پھیلانے والے تمام عناصر کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔

 

7)         شیعہ قوم کے قائدین و بزرگان ایک غیر ذمہ دار شخص کی طرف سےہونےوالی گستاخی سےبیزاری کااعلان کرتےہیں اور ایک فرد کی دریدہ دہنی کوجوازبناکرشیعہ قوم کےخلاف اسی نوعیت کی دریدہ دہنی کو غیر شرعی اورسنگین جرم قراردیتےہیں۔

 

8)         یہ اجتماع پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں پیش کردہ تحفظ بنیاد اسلام بل کو متنازع قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرتا ہے جبکہ اس حوالے سے پہلے سےہی قانون موجود ہے لہٰذا تحفظ بنیاد اسلام جیسے متنازعہ بل کو فی الفور واپس لیاجائے۔

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: