
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج ان کو یہ عدالتیں بری لگتی ہیں لیکن جب جسٹس قیام، نسیم حسن شاہ اور جسٹس تارڑ بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت انہیں یہ عدالتیں بہت اچھی لگتی تھیں کیونکہ یہ فون پر احکامات دیتے تھے کہ اس کو اتنی سزا اور اس کو اتنی سزا نہ دو۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ ہم این آر او کبھی نہیں مانگا لیکن یہ بارگین کر رہے تھے، اس میں بہت سارے اور بھی لوگ شامل تھے، یہ نیب کے 38میں سے 34قوانین میں ترمیم چاہتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال تک آپ اور مریم خاموش رہے کیونکہ آپ ہمارے اسلامی دوستوں کے ساتھ بارگین کر رہے تھے، تم کہتے ہو کہ یہ بیانیے کا وقت ہے، تیاری کرو آپ کے خلاف عدالتوں کا وقت ہے اور آپ کو جواب دینا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں سی پیک کے خلاف سازش ہو رہی ہے اور اس وقت سی پیک کے خلاف لندن میں گٹھ جوڑ ہو رہا ہے اور آپ اس گٹھ جوڑ کے سب سے بڑے محرک ہیں، آپ سی پیک کے خلاف پاکستان میں عدم استحکام کے ایجنڈے پر قائم ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز نے بھی نواز شریف کو ملک دشمن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’نواز شریف قوم کو بتائیں کہ سعودی عرب میں جو اسرائیل کے ساتھ کاروباری معاہدہ کیا تھا اور اس پر وہاں ان پر کیا کیس بنا تھا‘۔
وزیر ریلوے نے کہا کہ دنیا میں سی پیک کے خلاف سازشی عناصر اور چین دشمن لوگ نواز شریف کو عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے میدان میں لائے ہیں تاکہ سی پیک کا راستہ روکا جائے۔