IQNA

7:58 - October 07, 2020
خبر کا کوڈ: 3508319
تہران(ایکنا) صیھونی حکام کورونا کے بہانے سے قدس شہر کے قرنطینہ کے نام پر تین ہفتوں سے فسطینیوں کو مسجد الاقصی سے روک رہے ہین۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق کورونا وائرس کے بہانے سے بیت المقدس میں فلسطینیوں کو داخل ہونے سے روکا جارہا ہے جس سے یہاں کی عوام شدید مشکلات سے دوچار ہے۔

 

اسرائیلی حکام کی جانب سے بیت المقدس کے باشندوں کو قدیم حصے میں داخل ہونے پر بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے اور اسی طرح مسجد الاقصی میں عبادت سے بھی روکا گیا ہے۔

 

قدس اسلام کونسل کے سربراہ شیخ عکرمه صبری کا کہنا ہے:‌ دو ہفتوں سے ایک سازش کے تحت قدس کے قدیمی حصے کو یہاں کے باشندوں کے لیے نو گو ایریا بنا دیا گیا ہے جس سے لوگ مسجد الاقصی بھی نہیں جاسکتے جبکہ مقامی آباد کار صیھونی افراد آسانی سے مسجد‌الاقصی پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

 

انکا کہنا تھا: اس کا کیا مطلب ہے کہ آپ بیت‌المقدس کے مقامی افراد سے مسجدالاقصی آنے کے لیے خصوصی کارڑ طلب کریں جب کہ صیھونی افراد آسانی سے تلمودی عبادت کے لیے مسجدالاقصی آسکتے ہیں؟!

 

صبری نے کہا کہ عرب ممالک کی غفلت اور سازش کی وجہ سے انکو جرات ملی ہے ۔

 

اداره اوقاف اسلامی قدس نے بیان میں کہا ہے: گذشتہ روز ۵۲ صیھونی آباد کار پولیس کی حفاظت کے ساتھ مسجد الاقصی آئے اور باب المغاربه سے  تلمودی عبادت کے نام پر مسجدالاقصی پر انہوں نے حملہ کیا۔

 

الازهر نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ باقاعدہ پولیس کی حفاظت میں اس طرح کے حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ صیھونی حکام مسجدالاقصی اور قدس شریف کو یہودی علاقہ بنایا چاہتے ہیں۔

 

الازهر کے بیان میں کہا گیا ہے: صیھونی حکام کورونا کے نام پرفلسیطنیوں کو روکتے ہیں جبکہ صیھونیوں کو مختلف بہانوں سے مسجد الاقصی پر حملوں کا موقع فراہم کرتے ہیں۔/

3927585

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: