
جاپان میں مسلمانوں کی تاریخ تاتار مسلمانوں کی موجودگی سے انیسویں صدی سے وابستہ ہے۔ روس اور جاپان کی لڑائی کے بعد جاپان کا اسلامی دنیا سے رابطہ تیز ہوا اور بہت سے مسلمان جیسے «عبدالرشید ابراهیم» جنکو روس میں اسلامی سرگرمی کی وجہ سے نکالا گیا تھا وہ جاپانی جنرل «اکاشی» کے دوست تھے وہ جاپان آئے۔ عبدالرشید ایک اسلامی تبلیغی تھا انہوں نے جاپان میں اسلام کی تبلیغ شروع کی اور کافی افراد مشرف بہ اسلام ہوئے۔
جاپان میں اسلامی تبدیلی کا اصل آغاز پہلی جنگ عظیم کے بعد ہوا جب ایک مسلمان پناہ گزین بنام «محمد عبدالحی قربان» جنکو ترکمانستان کے مارکسسٹوں نے نکالا تھا وہ جاپان آئے اور اس کے ساتھ چھ سو مسلمان پناہ گزین ترکمانستان سے یہاں آباد ہوئے
اور یہ مسلمانوں کا پہلا اجتماعی داخلہ تھا۔
شیخ محمد عبدالحی قربان علیاف(۱۸۹۰_۱۹۷۴) تاتار قوم سے اہم مسلمان شخصیت شمار کی جاتی ہے جنہوں نے جاپان میں سال ۱۹۲۵ کو گرانقدر اسلامی خدمات انجام دیے اور ان کی کوششوں کی وجہ سے سال سال ۱۹۲۴ کو ٹوکیو میں ایک مسجد بھی تعمیر کی گیی۔
اس مسجد کا رسمی افتتاح سال ۱۹۳۸ میں ہوا اور پھر سال ۱۹۳۰ کو ایک چھاپہ خانہ بھی قائم کیا گیا جہاں تاتاری اور جاپانی زبان میں اسلامی کتب اور قرآن کریم وغیرہ شایع کیا جاتا۔

محمد عبدالحی قربان علیاف در کنار شیخ عبدالرشید ابراهیم- مسلمان تبلیغی- دائیں سمت سے
مصحف ٹوکیو
مصحف ٹوکیو بتاریخ ۱۲ جنوری ۱۹۳۴ کو ۵۰۰ کی تعداد میں خط قازانی شایع ہوا جنکو مشرقی ایشیاء میں پہلا اشاعتی نسخہ قرار دیا جاتا ہے۔
عربی زبان کے اشاعتی وسائل سال ۱۹۲۸ کو ترکی سے جاپان لائے گیے جب ترکی میں عربی زبان کی اشاعت پر اتاترک کی وجہ سے پابندی لگائی گیی تھی۔
اس وقت جاپان اور کوریا وغیرہ کے مسلمان خیر حضرات نے ۲ هزار جاپانی ین کی لاگت سے ان نسخوں کو شایع کیا جو چین، کوریا، فن لینڈ اور پولینڈ وغیرہ کے مسلمانوں کے لیے ارسال کیے گیے۔
سئول میں اسکی رونمایی کی گیی اور اسلامی جمعیت نے اس کا نسخہ جاپانی شہنشاہ ھروھیٹو، کو تحفے میں پیش کیا. یہ نسخہ اس وقت اسلامی ثقافتی میوزیم جو قازان شہر کی مسجد «قل شریف» میں واقع ہے وہاں پر موجود ہے۔