IQNA

10:58 - November 06, 2020
خبر کا کوڈ: 3508454
تہران(ایکنا) مسلمانوں نے نہ صرف بڑھ چرھ کر ووٹنگ میں حصہ لیا بلکہ انکے نمایندوں نے کانگریس میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات زور و شور سے جاری ہے اور دو دن ہوئے ہیں تاہم حتمی نتائج اب تک اعلان نہیں ہوا ہے اور دنیا کی نظریں انتخابات پر لگی ہیں۔

 

انتخابات میں امریکی عوام صدر کے علاوہ سینیٹ، مجلس نمایندگان اور ریاستی مجلسوں کے نمایندوں کا بھی انتخاب کریں گے۔

 

امریکی مسلم کونسل CAIR) کے مطابق مسلمانوں نے انتخابات میں اہم کردار ادا کیا اور کونسل کے مطابق دس لاکھ مسلمانوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا اور ان میں سے ۶۹ فیصد نے جوبائیڈن کو ووٹ دیا اور صرف ۱۷ فیصد مسلمانوں نے ٹرمپ کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا۔

 

کونسل کے ڈائریکٹرنهاد عواد کا کہنا تھا: اس ملک میں مسلمانوں کی ووٹ کی اہمیت کا اندازہ تمام امیدواروں کو بخوبی ہے۔

 

بایڈن نے انتخاباتی مہم میں وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کے حقوق کا دفاع کریں گے۔

 سال ۲۰۲۰ میں ٹرمپ نے مسلمانوں کے خلاف کچھ نرم لہجہ استعمال کیا تاہم انکی گذشتہ پالیسیوں کے تلخ تجربات مسلمان نہیں بھولے تھے۔

 

 

مجلس نمایندگاں میں تینوں مسلمان امیدوار مینا سوٹا سے ایلهان عمر ، مشی گن سے رشیده طلیب اور اینڈیانا سے آندره کارسون تینوں کامیاب ہوئے جو ڈیموکریٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔

 

ٹرمپ نے متعدد بار گوروں کے مخالف پر تنقید کیے تھے مثال کے طور پر سال ۲۰۱۹ میں ٹویٹ کیا تھا کہ یہ جو فقیر و بدحال ممالک سے آئے ہیں واپس جاکر اپنے ملکوں کو آباد کیوں نہیں کرتے؟

 

پیو ریسرچ مرکز کے مطابق امریکہ میں پینتیس لاکھ مسلمان رہتے ہیں جو ملک کا ایک فیصد حصہ شمار ہوتا ہے اور انکی اکثریت نیویارک، مشی گن، ایلینوی اور کیلفورنیا میں آباد ہے۔/

3933444

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: