اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

IQNA

اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

8:54 - November 22, 2020
خبر کا کوڈ: 3508523
تہران(ایکنا) خانہ فرھنگ ایران کوئٹہ کی جانب سے شاعر مشرق کی ۱۴۳ ویں سالگرہ پر ایک روزہ کانفرنس خانہ فرھنگ میں منعقد ہوئی۔

مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی سالگرہ پر کانفرنس منعقد ہوئی ، اسوقت کورونا کی عالمی وباء کے باعث وطن عزیز میں لاک ڈائون اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے‘ لہٰذا حکومتی ہدایات کے مطابق اس بار بڑے پیمانے پر پروگرام تو نہ ہوسکی مگر خانہ فرھنگ ایران نے اس روایت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی خاطر ایک انقلابی قدم اٹھایا اور محدود پیمانے پر فکر اقبال پر گفتگو کی نشست منعقد کی جس میں جیّداقبال شناس دانشوروں نے حکیم الامت کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالیں اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ ت

تلاوت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز اھل سنت کے قاری اسماعیل نے کیا جس کے بعد خانہ فرھنگ ج-ا-ایران کوئٹہ کے ڈائریکٹر سیدحسین تقی زادہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے فکر اقبال اور انکی اسلامی وحدت اور امت کے لیے خدمات کا زکر کیا۔

پروفیسر عبدالقیوم بیدار نے اقبال کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے براہوی زبان میں اقبال پر ہونے والے کاموں کو تفصیل سے زکر کیا اور بلوچ دانشوروں کی خدمات پر روشنی ڈالی۔

بلوچستان کے شاعر اور مصنف وقاص کاشی نے فکر اقبال کے موضوع پر خطاب میں کہا : اس مایوس کن صورتحال میں علامہ محمد اقبالؒ نے اپنی نظم و نثر کے ذریعے انہیں اُن کی قابل فخر تاریخ اور ان کے عظیم المرتبت اسلاف کے شاندار کارناموں سے آگاہ کیا‘ ان میں حریتِ فکر و عمل پیدا کی‘ ان میں جذبۂ خودی بیدار کیا۔ ان کے انقلابی افکار کی بدولت برصغیر کے مسلمانوں میں غلامی کی زنجیریں توڑنے اور آزادی حاصل کرنے کی امنگ بیدار ہوگئی۔

بلوچستان کے اقبال شناس شاعر اور مصنف پروفیسر عبدالروف رفیقی نے فکر اور حکمت اقبال پر روشنی ڈالتے ہوِئے کہا کہ کہ پاکستانی قوم بالخصوص نسلِ نو کو مفکر پاکستان کی حیات و خدمات اور ان کے کلام میں پنہاں جہدِ مسلسل کے پیغام سے مسلسل آگاہ ہونا چاہیے۔

تقریب کے دیگر مقررین نے علامہ اقبالؒ کی عملی زندگی اور فکری پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ڈاکٹرعلامہ محمداقبال کے خودی کا اہم ترین نکتہ یہ ہے انسان خود کو درست پہچانے اور خودشناسی سے ہی وہ خدا شناسی تک پہنچ سکتے ہیں۔

 تقریب میں ڈاکٹر عبد الرشید خان علیزئی ، پروفیسر صدف چینگیزی ، پروفیسر نوید اقبال ہاشمی ، ڈکٹر اخوندزادہ، اور طالب علموں نے شرکت کی۔ ایرانی قونصل جنرل درویش وند نے بھی تقریب میں علا مہ محمد اقبال کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کے نوجوان نسل اقبال کی سوچ کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لیں تو نہ صرف ملک بلکہ معاشرہ بھی ترقی کر سکتا ہے ، انکا کہنا تھا کہ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال شاعر مشرق مفکر پاکستان کی تعلیمات اور فلسفہ خودی پر عمل پیرا ہو کر ہم عالمی دنیا میں ایک خود دار قوم کا مقام حاصل کر سکتے ہیں اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اقبال کی طرح ہم مغرب و مشرق کو درست انداز میں پہچان لیں۔

دیگر مقررین نے اپنے خطابات میں علا مہ اقبال کی زندگی کے لمحات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور انکو خراج عقیدت پیش کیا۔ انکا کہنا تھا کہ علامہ اقبالؒ عصرحاضر اور نوجوان نسل کے شاعر تھے۔جنہوں نے اپنے کلام کے ذریعے بیداری ملت اور اتحاد یکجہتی کا پیغام دیا۔ حکیم الامت ،شا عر مشرق،ڈا کٹر علا مہ محمد اقبا لؒ کا پیغا م خو دی آج مسلما ن نو جو ا نو ں اور پوری پا کستا نی قوم کیلئے عز م و حو صلے کی علا مت ہے۔

لندن سے آن لاین خطاب کرنے والے ڈاکٹر عارف خان نے کہا کہ فکر اقبا ل سے رہنما ئی حا صل کر نے کی جتنی ضرو رت آج ہے،پہلے کبھی بھی نہ تھی،پاکستا ن کا تصور پیش کر نے والے عظیم مفکر کو شا ندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ پاکستان اورامت کو آج بھی اقبال کی اشد ضرورت ہے اور انکی خودی پر عمل کرکے ہی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔

کانفرنس کے ہمراہ اقبال لاہوری کے موضوع علامہ اقبال لائبریری میں خوبصورت کتب نمایش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

تقریب کے آخر میں مہمانوں کو فکر اقبال پر مبنی کتابوں کا سیٹ تحفے میں پیش کیا گیا اور پرتکلف عشائیے ساتھ کانفرنس اختتام کو پہنچی۔

اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

اقبال اور حکیموں کی حکمت کانفرنس کا انعقاد

 

نظرات بینندگان
captcha