IQNA

8:05 - December 08, 2020
خبر کا کوڈ: 3508598
تہران(ایکنا) سینکڑوں تیونسی شہریوں نے قرآنی ریڈیو بند کرنے کے خلاف مرکزی میڈیا آفس کے باہر مظاہرہ اور اس اقدام کو سلاموفوبیا سے مشابہت قرار دیا۔

تیونس میں قرآنی ریڈیو بند کرنے کے خلاف مظاہرہ گذشتہ روزہ مرکزی میڈیا آفس کے باہر منعقد ہوا جہاں مظاہرین نے ریڈیو قرآن دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

 

مذکورہ مظاہرہ تیونس کے رکن پارلیمنٹ «سعید الجزیری» کی درخواست پر منعقد ہوا جسمیں کہا گیا تھا کہ عدالت کی جانب سے ریڈیو کے خلاف کوئی حکم نہیں آیا ہے۔

 

الجزیری نے موزاییک نے میڈیا آفس کی ذمہ داری پر تاکید کرتے ہوئے کہا: اب تک کسی نے اس کو بند کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

 

مذکورہ رکن پارلیمنٹ نے دعوی کیا کہ میڈیا آفس نے بیرونی حمایت اور ایجنڈے کے مطابق ریڈیو قرآن بند کردیا ہے۔

 

میڈیا آفس کے سربراہ  «النوری اللجمی» نے کہا کہ ریڈیو قرآن کے خلاف متعدد شکایتوں اور جرم ثابت ہونے کے بعد ریڈیو قرآن کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

قابل ذکر ہے کہ کچھ عرصے قبل بھی مذکورہ میڈیا آفس کی جانب سے کئی ایک چینلوں کو رجسٹریشن نہ ہونے کے نام پر بند کردیا گیا تھا جو عرب اسپرنگ یا انقلاب اسلامی سال ۲۰۱۱ کے بعد  کھول دیے گیے تھے اور انکے وسائل بھی ضبط کرلیا گیا تھا۔

 

ان میں «الزیتونه»، «ارگان النهضه»، «تونسنا» ٹی وی چینلز اور ریڈیو قرآن شامل تھا جو «النهضه» تحریک کا حصہ تھا۔

 

متعدد رکن پارلیمنٹ نے ان اقدامات کو آذادی اظھار کے قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اور انکا کہنا ہے کہ میڈیا مرکز ملک کو بن‌علی کے زمانے میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔

 

مذکورہ نمایندوں کا کہنا ہے کہ میڈیا مرکز ملک میں اسلام فوبیا کا شکار ہے۔/

.

 

3939684

نام:
ایمیل:
* رایے:
* captcha: