
مصر العربیة جرمن اخبار اشپیگل کے حوالے سے لکھتا ہے : پیرس و ویانا حملوں کے بعد جرمنی میں باحجاب خواتین کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف مقامات میں ان پر حملوں کی اطلاعات ہیں۔
جرمن میں شامی نژاد وکیل خاتون کا روزنامه اشپیگل سے گفتگو میں کہنا تھا: مسلمان خواتین مجھ سے پوچھتی ہیں کہ کیا وہ اپنے دفاع کے لیے اسلحہ اٹھا سکتی ہیں؟
جرمنی میں شامی نژاد وکیل خاتون کا کہنا ہے کہ جرمنی میں ہر روز خواتین دفاع کے حوالے سے سوالات پوچھتی ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ آسٹریا و ویانا حملوں کے بعد جرمنی میں باحجاب خواتین کو دہشت گردوں کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔
مذکورہ اخبار کے مطابق خواتین سوشل پر تبادلہ خیال کرتی ہیں کہ وہ مارکیٹ یا سڑک پر بچوں کے ساتھ جاتے ہوئے حملے کی صورت میں دفاع کیسے کرسکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یورپ میں خواتین خوف سے دوچار ہیں اور ہر روز سوال کرتی کہ کیا وہ خیریت سے یونیورسٹی پہنچ جائے گی اور کیا: « ہم ہمیشہ خوف سے زندگی بسر کرسکیں گے؟».
اخبار کے مطابق مسلمان خواتین حجاب کے ساتھ یا روڑ پر عربی میں بات چیت کرتے ہوئے خوف محسوس کرتی ہیں کیونکہ ہر طرف نسل پرستانہ امور دیکھتے ہیں۔
روزنامه اشپیگل ایک باحجاب خاتون کی ماں کے حوالے سے لکھتا ہے: قطار میں مسافروں سے بھرے ڈبے میں مسلمان خاتون بچے کے ساتھ توہین کا شکار ہوتی ہے اور اعتراض کرنے پر دیگر خواتین بھی ان پر حملہ کرتی ہیں۔ بہت سے مسلمان خواتین کا خیال ہے کہ وہ بغیر حجاب کے پرامن زندگی بسرکرسکتی ہیں۔
اخبار کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ اسکارف مسلمان خواتین کا قانونی حق ہے اور اس حوالے سے انکو شکار کرنا نادرست ہے۔/