
جمہوریہ تاتارستان کے حلال امور کے رکن اریک زگانشین کا کہنا ہے: چونکہ کورونا ویکسین استعمال کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد مسلمان ہے لہذا ہم نے مواد کی تفصیلات مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔
زگانشین کا کہنا تھا: لگ بھگ ۲۵ ملین مسلمان روس میں آباد ہے اور جمہوریہ تاتارستان روس کے بڑا مسلم نشین علاقہ شمار ہوتا ہے لہذا یہ ہمارے لیے بڑا اہم ہے ۔
انکا کہنا تھا کہ دیگر ممالک میں بھی یہی اقدام کیا گیا ہے جیسے حال ہی میں انڈونیشیاء نے کورونا ویکسین کے «حلال» ہونے کی سرٹیفیکٹ جاری کی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ کورونا ویکسین کے اندر سور گوشت کے استعمال ہونے کے خدشے پر ویکیسن کو حرام قرار دیا جائے، کیونکہ گوشت کی موجودگی ضروری نہیں بلکہ ان سے متعلق مواد بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
انکا کہنا تھا کہ تمام امور کو مدنظر رکھتے ہوئے علما کونسل اس کے حلال یا حرام ہونے کا فیصلہ کرے گی اور اس کا اجرا تمام مسلم نشین علاقوں اور لوگوں پر نافذ ہوگا.
قابل ذکر ہے کہ ادارہ برائے مسلم امور کے سربراہ شیخ راوی عینالدین نے «اسپوٹنیک وی» کورونا کے حوالے سے خدشات کا اظھار کیا تھا۔/