
استنبول کی بوسفور یونیورسٹی میں کعبہ کی توہین آمیز تصویر سے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گیی ہے جو ایک فائن آرٹس نمایش میں پیش کی گیی تھی۔
اس تصویر کے ساتھ ہم جنس پرستوں کی علامات استعمال ہوئی تھیں جس پر ایکشن لیتے ہوئے اب تک چار افراد کو گرفتار کرنے کی اطلاعات ہیں۔
ترکی میں سوشل میڈیا صارفین Kabe Kutsalımızdır ( «کعبه ہمارے لیے مقدس» کا ھیشٹیگ کررہے ہیں جبکہ استنبول عدالت کے جج نے تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور مرتکب افراد کی تلاش جاری ہے۔
ترکی مذہبی امور کے سربراہ علی ارباش نے کہا ہے کہ مجرموں کو تلاش جاری ہے اور انکو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔
رکن پارلیمنٹ مصطفی شنتوب نے بھی بوسفور یونیورسٹی میں اس توہین آمیز اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مرتکب افراد کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق وزیر اعظم احمد داود اوغلو نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کعبه مشرّف کی توہین کو آذادی بیان کہنا قبول نہیں اور اسکی تحقیقات ہونی چاہیے۔
ترک صدارتی ترجمان ابراهیم کالین نے کہا کہ کعبه کی توہین آزادی بیان نہیں اور جنہوں نے یہ کیا ہے انکو سزا ملے گی۔/