
بی بی سی کے مطابق بدھ کو دو الگ واقعات میں پولیس نے نفرت انگیز جرائم کے حوالے سے کہا کہ دو مسلمان خواتین کو حجاب کی وجہ سے حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
شعبہ « انسداد نفرت انگیز جرائم و تشدد» ایڈمنٹن پولیس مذکورہ واقعہ اور با حجاب خواتین پر حملوں کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے۔
بدھ کو حملے کے بعد اجلاس منعقد ہوا جسمیں پولیس کو بتایا گیا کہ ۱۹ ساله ایک عمارت میں کسی کا انتظار کررہی تھی کہ ایک گورے جوان نے نازیبا جملوں کے بعد اس پر حملہ کیا۔
دوسرے واقعہ میں بتایا گیا کہ ۲۷ ساله برقع پوش خاتون کو عین سٹرک کے بیچ واک کے دوران ایک گورے نے زمین پر دھکہ دیا اور انکو قتل اور برقع پھاٹنے کی دھمکی بھی دی۔
ایڈمنٹن شہر کے مئیرڈدان ایوسون Din Ivesin نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا شہر ان واقعات کو برداشت نہیں کرسکتا، انہوں نے پولیس کو تحقیقات کا بھی حکم دیا۔
ایوسون نے متاثرہ افراد سے کہا: افسوس ہے کہ آپ کو سخت واقعات کا سامنا کرنا پڑا، یہاں پر اسلامو فوبیا اور حجاب فوبیا کی گنجاِیش نہیں اور آپ کو امن کا احساس کرانا ہوگا۔
کینیڈا میں مسلم کونسل کے رکن فیصل سوری نے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا: پولیس کو موثر کارروائی کرنی چاہیے تاکہ اس طرح کے مزید واقعات رونما نہ ہوسکے۔/