
دو عشرے سے حیدرآباد کے مسلم خطاط «آنیل کومار چوهان» مسجد کی دیواروں پر خطاطی کررہا ہے۔
ھندو خطاط چوهان شروع میں دکانوں پر اردو خطاطی کے زریعے روزی کما رہا تھا مگر بعد میں انکو یہ خیال آیا اور انہوں نے قرآنی خطاطی شروع کیا۔
چوهان تیس سال سے بیل بورڑ پر خطاطی کے زریعے گزربسر کررہا ہے انکا کہنا تھا کہ شروع میں اردو میں نہ سمجھتا تھا نہ لکھ سکتا اور کسٹمر کو کہتا کہ وہ لکھ کر لائے کیا لکھنا ہے۔
چوهان نے کہا ایک بار ایک کسٹمر آیا اور مسجد کی دیوار پر خطاطی کا کہا تو میں نے اس پر کام شروع کیا۔
انکا کہنا تھا کہ کسٹمر کو یہ کام پسند آیا اور اس وقت سے میں نے مساجد کی دیواروں پر آیات قرآن کا کام بھی شروع کیا.
شروع میں کافی ہندوں نے اس کام کی مخالفت کی اور اس کام کو ہندو عقیدے کے خلاف قرار دیا مگر میں نے با قاعدہ اجازت نامہ لیا اور پہلی بار : « سوره یاسین کی خطاطی جامعه نظامیه یونیورسٹی میں کی».
انکا کہنا تھا کہ بھارت میں ہندو و مسلم کو پرامن اور یکجا رہنا چاہیے اور مجھے خوشی ہے کہ ہندو ہوتے ہوئے قرآنی آیات کی خطاطی کرتا ہوں.
آیات قرآن کی خطاطی کے علاوہ وہ کبھی کبھار میلاد النبی (ص) پر نعت بھی پڑھتے ہیں۔/
