
نیوز ایجنسی «الامه» کے مطابق فلسطینی تنظیم حماس نے خلیج فارس میں یہودی انجمن کو صیھونی تقویت کی کوشش قرار دیا۔
حماس کے نمایندے «رأفت مرة» نے کہا ہے: عربی ممالک میں یہودی انجمن کے قیام سے اسرائیل خود کو علاقے میں مضبوط کرنا چاہتا ہے تاکہ بد امنی کو پھیلایا جاسکے۔
انہوں نے حماس کی مخالفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح عرب ممالک مزید ذلت و رسوائی میں گرفتار ہوں گے.
انہوں نے اس طرح کے اقدامات کو فلسطین اور فلسطینی عوام کی خواہشات کی منافی قرار دیا۔
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس انجمن کے قیام کا مقصد امارات، بحرین، عمان، سعودی، قطر و کویت کو نزدیک لانا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ اس سے علاقے میں یہودیوں کی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
عرب ممالک سے تعلقات کے سلسلے میں کچھ یہودی امارات اور بحرین گیے ہیں جہاں وہ مختلف ادارے بنا رہے ہیں جنمیں عبادت خانے بھی شامل ہیں۔/