
رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک دو سو تیرہ فسلطینی شہید ہوچکے ہیں جنمیں ۶۱ بچے، ۳۵ خواتین اور سولہ بوڑھے بھی شامل ہیں جبکہ ۱۴۴۲ فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔
نویں روز بھی غاصب اسرائیلی رژیم کا وحشیانہ حملہ جاری ہے، غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں چار سو بچے اور ۲۷۰ خواتین شامل ہیں
مختلف شہروں میں فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں جنمیں رام اللہ، بیرہ، الخلیل، بیت الحم اور نابلس شامل ہے۔

رام الله اور بیره میں مظاہرین پر پولیس نے حملہ کیا جہاں تین فلسطینی شہید ہوگیے ہیں۔
استقامتی گروہوں کی طاقت کا اسرائیلی اعتراف
اسرائیلی وزیراعظم نے دھمکی دی ہے کہ مزید چند روز تک حملے جاری رہیں گے اگرچہ ماہرین کے مطابق حماس اور استقامتی گروہوں کی طاقت کو ختم کرنا ممکن نہیں اور الجزیرہ نے خبر دی ہے کہ اسرائیل جلد جنگ بندی کرسکتا ہے۔
صیھونی فوج کے ترجمان نے اعتراف کیا ہے کہ حماس کے پاس بارہ ہزار میزائیل موجود ہیں اور ان سب کا خاتمہ ممکن نہیں، اسرائیلی انٹلی جنس سربراہ نے دھمکی دی ہے کہ غزہ کی بجلی کاٹ دی جائے گی۔

حملوں کے نویں روز بھی استقامتی گروہوں کی جانب سے ۲۷۰ راکٹ فائر کیےگیے اور اس طرح فایر ہونے والے راکٹوں کی تعداد تین ہزار سے زاید ہوچکی ہے۔
عالمی برادری کی معنی خیز سست رفتار کوشش
سلامتی کونسل نے بھی اسرائیل کے حملوں سے صرف تین اجلاس تک کوشش کی جس میں کوئی اقدام نہ ہوسکا جبکہ فلسطینی نمایندے نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو روکنے میں کردار اد اکریں۔
فرانس اور جرمنی نے صرف زبانی حد تک افسوس کا اظھار کیا تاہم انہوں اسرائیلی اقدام کو درست قرار دیا ہے۔
تاہم الجزیرہ کے مطابق یورپی ممالک کی اکثریت فوری جنگ بندی چاہتی ہے جب کہ مصر اور اردن بھی فوری جنگ بندی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
مصری صدر نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے پانچ سو ملین ڈالر مختص کیا جارہا ہے جس کی الازھر اور مفتی اعظم نے تعریف کی ہے جبکہ اردن کی جانب سے بھی ایک صحرائی ہسپتال بنانے کا اعلان ہوا ہے۔
شیخ الازهر نے بھی حملوں میں عالمی برادری کی شرم آور خاموشی کی مذمت کی ہے اور اسی تاریخی ذلت آمیز واقعہ قرار دیا ہے۔/