نیوز ایجنسی (اُردو پوائنٹ) کے مطابق سعودی حکومت نے بھار ت میں مقیم ایک سعودی خاندان کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد تیز ترین کارووائی کرتے ہوئے اس خاندان کو واپس بُلا لیا ہے۔ عرب نیوز کے مطابق یہ فیملی بھارت میں مقیم تھی جب وہاں پر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں کورونا کیسز سامنے آنے شروع ہو گئے اور یومیہ ہلاکتیں بھی تین چار ہزار ہو چکی ہیں۔
یہ خاندان بھی اس بے قابو وبا کا نشانہ بنا گیا اور پورا خاندان اس موذی مرض کا شکار ہو کر ہسپتال پہنچ گیا۔ جب یہ بات سعودی میڈیا کے ذریعے سعودی حکام تک پہنچی تو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے فوری طور پر احکامات جاری کیے کہ متاثرہ سعودی فیملی کو واپس سعودی عرب لایا جائے تاکہ ان کا یہاں بہترین سہولتوں کے ساتھ علاج ہو سکے۔
اگرچہ بھارت سے سعودیہ پروازوں کے آنے پر پابندی عائد ہے، تاہم اس سعودی خاندان کو خصوصی طیارے پر واپس مملکت لایا گیااور انہیں کنگ فہد میڈیکل سٹی میں علاج معالجے کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔ سعودی وزارت دفاع نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بتایا ہے کہ سعودی فیملی کو ڈیفنس منسٹری ہیلتھ سروسز کے ائیر میڈیکل ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ نے بھارت سے سعودیہ منتقل کی ہے۔
اس حوالے سے کنگ فہد میڈیکل سٹی کے سربراہ ڈاکٹر فہد الغفیلی نے بتایا ہے کہ بھارت سے لائی جانے والی کورونا متاثرہ فیملی کا فوری طور پر علاج شروع ہو گیا ہے۔ متاثرہ خاندان کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے رشتہ داروں سے ملاقاتوں پر فی الحال پابندی عائد ہے۔ اس خاندان کے سربراہ اور دو بچوں کی حالت اب قدرے بہتر ہے تاہم خاتون کے پھیپھڑے بُری طرح سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کی حالت خراب ہونے کے باعث انہیں آئی سی یو کے قرنطینہ شعبے میں رکھا گیا ہے۔ تمام افراد کو الگ الگ کمروں میں آئسولیٹ کیا گیا ہے اور ان کے علاج کے لیے ڈاکٹروں کا ایک خصوصی پینل مقرر کیا ہے جو ان کی چوبیس گھنٹے طبی نگرانی کر رہا ہے۔
source:urdupoint