
فرانس کے وزیر داخلہ ژان ایو لوڈریان نے مقبوضہ علاقوں میں صیھونی اقدام پر اس رژیم کو نسل پرست قرار دیا اور فرانس کے کسی اعلی حکام میں سے وہ پہلا فرد ہے جس نے صیھونی رژیم کو متعصب نسل پرست قرار دیا ہے۔
لوڈریان نے طولانی نسل پرستانہ اقدامات کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطینیوں کے لیے ایک مستقل ملک کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
فرنچ کے تجربہ کار سیاست داں نے ریڈیو rTL اور روزنامہ فیگارو سے انٹرویو میں حالیہ حملوں کی طرف بھی اشارہ کیا جسمیں ۲۷۹ فلسطینی شہید ہوئے جنمیں ۶۹ بچے شامل ہیں۔
لوڈریان نے نسل پرست کا لفظ استعمال کیا جو عام طور پر جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ تعصب کے لیے استفادہ کیا جاتا ہے، انکا کہنا تھا کہ اگر مسئلے کا راہ حل نہ نکالا تو ایک طولانی مدت نسل پرستانہ سلسلہ چل سکتا ہے۔
لوڈریان نے کہا کہ اسرائیل نے اگر سنجیدہ اقدام نہ کیا تو نسل پرستی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور حالیہ جنگ حالات کو مزید خطرناک کرسکتے ہیں۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔
گذشتہ مہینے شیخ جراح سے مقامی فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کی کوشش اور عدالت کی جانب سے اس اقدام کے حق میں فیصلے نے حالات کو خراب کیا اور مسجد اقصی میں نمازیوں پر حملوں سے کشیدگی شروع ہوئی اور جھڑپوں کا سلسلہ غزہ تک پھیل گیا اور اسرائیلی حملوں میں تین سو کے قریب فلسطینی شہید اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوئے۔/