
استنبول کے تاریخی میدان تقسیم میں مسجد کا افتتاح صدر طیب اردگان نے کیا اور اس واقعے کو غیر معمولی اہمیت دی جارہی ہے اور عرصے بعد اس میدان میں عبادت کے لیے ایک مرکز کا وجود قیام میں عمل میں لایا گیا ہے۔
ترک صدر نے جعمہ کی نماز بھی یہاں کی بلند و بالا عمارت والی مسجد میں ادا کی جہاں ڈھائی ہزار نمازی بیک وقت نماز ادا کرسکتے ہیں۔
اردگان نے اس میدان میں مسجد قایم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور انکا کہنا تھا کہ استنبول میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں مسلمان عبادت نہ کرسکے۔
مسجد اور اردگان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس میدان میں مسجد کی تعیمر سے اردگان یہاں کی پہچان اور تشخص ختم کرنے کے درپے ہیں کو سیکولر صدر مصطفی اتا ترک کی یادگار ہے۔
مخالفین کا کہنا تھا کہ اس تاریخی میدان کی شناخت کے خاتمے سے یہاں کی حیثیت کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
جمعرات کو تقریب سے خطاب میں ترک صدر کا کہنا تھا: میں چھوٹا تھا جب یہ کہا جاتا تھا کہ تم لوگ یہاں مسجد نہیں بنا سکتے لیکن خدا کو منظور تھا کہ ہم یہاں مسجد قایم کریں۔
مسجد میں پارکنگ، بڑے بڑے ہالز موجود ہیں۔ مسجد کی ڈیزائنینگ ترک انجنیر شفیق بیرکہ اور سلیم دالامان نے تیار کی ہے جبکہ دیواروں پر داوود بکتاش نے خطاطی کی ہے اور آدم توران نے پینٹنگ سے مسجد کی دیواروں کو خوبصورتی بخشی ہے۔
دیواروں پر مختلف آیات قرآن کی خطاطی کی گیی ہے اور نقش و نگار سے آرائش کی گیی ہے۔/